عراقی علاقے کردستان میں ریفرنڈم سے کُرد برادری دباو اور تنہائی کا شکار ہوگی: ایڈمیرل شمخانی

تہران - ارنا - اعلی ایرانی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری نے کہا ہے کہ عراقی علاقے کردستان میں ریفرنڈم کرانے کی بات ظاہر میں اچھی ہوگی مگر حقیقتا اس اقدام سے عراق میں بسنے والے کُرد شہری دباو اور تنہائی کا شکار ہوں گے.

یہ بات ایڈمیرل 'علی شمخانی' نے پیر کے روز تہران کے دور پر آئے ہوئے عراقی علاقے کردستان کی پیٹریاٹک یونین جماعت کے سنئیر ڈپٹی سیکرٹری جنرل 'کسرت رسول' اور سیاسی دفتر کے سربراہ 'ملا بختیار' اور ان کے ہمراہ ایک اعلی سطح وفد کے اراکین کے ساتھ ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ موصل کی آزادی اور داعش دہشتگردوں کی شکست سے عراق میں قومی یکجہتی کے لئے راہ ہموار ہوگئی اور اس فتح سے عراق میں افراتفری پھیلانے والی غیرملکی سازشیں بھی ناکام ہوں گی.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراق میں دیرپا امن و استحکام کے ذریعے اس ملک کو مزید مضبوط بنایا جاسکتا ہے اور عراق کے دوست اور خیرخواہ ممالک بھی اس حوالے سے عراقی کی بھرپور حمایت کرنی چاہئے.

ایڈمیرل شمخانی نے بتایا کہ بعض علاقائی اور غیرعلاقائی ممالک عراق کو کمزور کرنے کے خواہاں ہیں مگر ایسی سازشوں پو ہوشیار رہتے ہوئے بالخصوص قومی مفادات اور عالم اسلام کے مفادات کی خاطر سامراجی طاقتوں کی جانب سے گریٹ مشرق وسطی جیسے منصوبوں کو ناکام کرنا چاہئے..

انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، عراق کے لئے بالخصوص وہاں کے شمالی علاقے میں موجود تمام گروپوں، قوموں اور جماعتوں کے لئے باہمی اتحاد، اقتصادی ترقی، خوشحالی اور امن کی خواہش رکھتا ہے ایسی خواہشات پوری ہونے سے عراق میں دہشتگردوں کی تشکیل اور ان کی سرگرمیوں کا خاتمہ کیا جاسکتا ہے.

اس موقع پر عراقی علاقے کردستان کی پیٹریاٹک یونین جماعت کے سنئیر ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے عراق سمیت کردستان کی مجموعی صورتحال پر روشنی ڈالی اور کہا کہ ایران اور عراقی کردستان کے درمیان تعلقات تاریخی اور لازوال ہیں اور ہم اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ تعلقات پر فخر کرتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے کردستان کو سیکورٹی بحران کا شکار ہونے سے بچالیا.

٢٧٤**