ایران کی میزائل طاقت پر مذاکرات کی گنجائش نہیں: جنرل باقری

تہران - ارنا - ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے پاسداران انقلاب کے خلاف سازشیں اور پابندیوں کو امریکہ کے لئے خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی میزائل طاقت اور قابلیت پر سمجھوتہ اور کسی بھی طرح کے مذاکرات کی ہرگز گنجائش نہیں ہے.

یہ بات میجر جنرل 'محمد باقری' نے پیر کے روز ایرانی شہر 'مشہد' میں سپاہ پاسداران اسلامی انقلاب (IRGC) کی بری فورسز کے کمانڈروں کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ پاسداران انقلاب کو دہشتگرد تنظیموں سے تشبیہ دینا اور اس پر پابندیاں عائد کرنا امریکہ اور خطے میں قائم اس کے فوجی اڈے اور فورسز کے لئے خطرناک اقدام ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ انقلاب کی کامیابی اور ایران پر مسلط کردہ جنگ کے بعد امریکہ اور صہیونیوں کی شیطانی سازشوں کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران طاقتور اور کی عزت میں مزید اضافہ ہوگیا ہے.

میجر جنرل باقری نے کہا کہ آج ایران کی دفاعی اور جنگی صلاحیت میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور ہم وطن عزیز کے خلاف ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لئے ہر وقت آمادہ ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی جانب سے دشمنوں کے خطرات کا مقابلہ کرنے کا سلسلہ جاری رہے گا اور اس مقصد کے لئے ہم دوست اور ہمسایہ ممالک کو دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں تعاون بھی جاری رکھیں گے.

ایرانی مسلح افواج کے سربراہ نے کہا کہ آٹھ سالہ مسلط شدہ جنگ، شہدا کے خون کی برکت اور سپریم لیڈر کی ہدایات کی بدولت آج اسلامی جمہوریہ ایران خطے میں ایک اہم اور مستحکم ملک بن چکا ہے.

انہوں نے خطے کی حالیہ صورتحال بالخصوص عراق میں داعش پر غلبہ اور موصل کی آزادی کے بعد رونما ہونے والی تبدیلیوں کے حوالے سے کہا کہ یقینا عراقی قوم اور مسلح افواج دہشتگردوں کے خلاف کامیاب ہیں اور یہ سلسلہ جاری رہے گا مگر بعض حلقوں کی جانب سے عراقی علاقے کردستان میں ریفرنڈم کرانے کی باتیں کوئی عام بات نہیں.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عراقی علاقے کردستان میں ریفرنڈم کرانا ہمسایہ ممالک کے مفاد میں نہیں جبکہ ہم عراق کی جغرافیائی سالمیت پر زور دیتے ہیں جس سے تمام حلقوں کو فائدہ ہوگا.

میجر جنرل باقری نے خطے کے تنازعات اور بعض ممالک کے درمیان صف بندی اور محاذ آرائیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران، عراق اور دیگر علاقائی ممالک کو تجویز دیتا ہے کہ تناو اور تشدد سے پاک فضا میں ایسے تمام تنازعات کے حل کے لئے موثر اقدامات اٹھائیں.

انہوں نے ایران مخالف امریکی حکام کے حالیہ من گھڑت الزامات اور دعووں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ایرانی عوام بیدار ہیں اور وہ دشمنوں کی شیطانی سازشوں اور وطن عزیز کے خلاف ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لئے خبردار ہیں.

٢٧٤**