ایران معاہدہ، پیچیدہ جوہری مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کیلئے مثالی ہے: سربراہ اقوام متحدہ

تہران - ارنا - اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل 'انٹونیو گوٹیریش' نے ایران اور عالمی طاقتوں کے درمیان طے پانے والے جوہری معاہدے کی دوسری سالگرہ کے موقع پر کہا ہے کہ یہ معاہدہ جوہری حوالے سے پیچیدہ ترین مسائل کو افہام و تفہیم اور بات چیت کے ذریعہ حل کرنے کی روشن مثال ہے.

اقوام متحدہ کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق، انٹونیو گوٹیریش نے ایران اور مغربی ممالک کے درمیان طے شدہ جوہری معاہدے کی دوسری سالگرہ کی مناسبت میں کہا کہ عالمی جوہری معاہدہ، ایٹمی ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے میدان میں ایک انتہائی عظیم کارنامہ شمار ہو رہا ہے اور ہمیں اس امید دیتا ہے کہ ایٹمی شعبے میں سب سے پیچیدہ مسائل مذاکرات، افہام و تفہیم اور تعاون سے حل ہو جائے گا.

انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام مکمل طور پر پرامن ہے اور اسی حوالے سے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک کو اس تاریخی معاہدے کے مکمل نفاذ کرنے کی حمایت کرنی چاہیں.

آنتونیو گوترش نے کہا کہ گزشتہ دو سالوں کے دوران میں جوہری معاہدے کے نفاذ کا تسلسل نے مجھے حوصلہ افزائی کی ہے.

انہوں نے بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی' کے تحت ایران کے جوہری وعدوں پر پابند رہنے کی تعریف کرتے ہو‏‏ئے اور عالمی جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کے لیے روان سال 25 اپریل کے اجلاس میں موجودہ ممالک کے دوبارہ زور کا خیر مقدم کرتے ہوئے اور کہا کہ ان ممالک کی پائیدار ضمانت، جوہری معاہدے کی مکمل کامیابی کے لئے ضروری ہے.

انہوں نے ان ممالک سے مطالبہ کیا کہ جوہری معاہدے سے فائدہ اٹھانے کے لیے ان سب ممالک، نیک نیتی کے ساتھ باہمی تعاون کو فروغ دینا ناگزیر بیں.

انہوں نے مزید بتایا اقوام متحدہ کے سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 اور دیگر متعلقہ قراردادوں کے تحت عالمی جوہری معاہدے کے مکمل نفاذ کے لیے اپنی حمایت کو جاری رکھے گا کیونکہ یہ معاہدہ، عالمی برادری کے مفاد میں ہے.

یاد رہے کہ ایران اور گروپ 1+5 نے دو سال مذاکرات کے بعد 14 جولائی 2015 کو تاریخی جوہری معاہدے پر دستخط کردئے.

9410٭274٭٭