اگر امریکہ نے ذرا سی بھی غلطی کی تو اس کا دنیا میں کوئی بھی مرکز بچ نہیں پائے گا: تہران امام جمعہ

تہران - ارنا - ایرانی دارالحکومت کے امام جمعہ نے تاریخ میں امریکہ کے ہولناک جرائم بشمول صہیونیوں کی بے پناہ حمایت کرنے کا ذکر کرتے ہوئے اس بات کا انتباہ کیا ہے کہ اگر امریکہ ہمارے خلاف کوئی غلط قدم اٹھانے کی جرات کرے تو ایران اس کا دنیا میں کوئی بھی مرکز کو نہیں چھوڑے گا.

یہ بات آیت اللہ 'محمد علی موحدی کرمانی' نے آج تہران میں نماز جمعہ کے ایک عظیم اجتماع میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ دنیا قاتل حکمرانوں، اسرائیل اور غیرانسانی جرائم کے مرتکب عناصر کی حمایت امریکہ کے لئے معمول کی با بن چکی ہے اور وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لئے پابندیوں کا استعمال کرتا ہے.

انہوں نے کہا کہ یہ کہنا حیرت کی بات نہیں کہ امریکہ ایک ناپاک ضمیر کا مالک ہے اور ایسے ضمیر سے کچھ بھی توقع نہیں رکھا جاسکتا.

آیت اللہ موحدی کرمانی نے بتایا کہ حیرت کی بات یہ بھی ہے بعض ضعیف النفس افراد کہتے ہیں کہ امریکہ طاقتور ہے اور اس سے لڑنا ایران کے بس کی بات ہے لہذا بہتری اسی میں ہے کہ مزاحمت سے دستبردار ہوکر مفاہمت اور مذاکرات کا راستہ اختیار کرے.

انہوں نے ان عناصر کو مخاطب کرتے ہوئے مزید کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ ان لوگوں کو قرآن کے وعدوں کا علم نہیں شاید قرآن پڑھے ہوں گے مگر بات ان کی سمجھ میں نہیں آئی ہوگی.

تہران کے امام جمعہ نے مزید کہا کہ دنیا جان لے، ما طاقتور ہیں، ہمارے سپریم لیڈر بہادر، ذہین اور مضبوط عزم کے مالک ہیں اور ہم سب کے دلوں میں ان کے لئے محبت ہے.

ایرانی دارالحکومت کے امام جمعہ نے موصل کی آزادی پر عراقک قوم، مذہبی رہنماوں اور حکومت کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فتح کا اصل پیغام یہی کہ اگر کوئی مظلوم قوم ظالموں کے خلاف اٹھ کھڑی ہو تو یقینا اللہ ان کی مدد کرتا ہے.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے عراق میں داعش کی ناپاک جڑ کا خاتمہ کردیا گیا یہاں تک کہ ایران کی وفاقی پولیس کے مطابق موصل آپریشن کے دوران داعش کے ہزاروں تکفیری دہشتگردوں کو ہلاک کیا گیا و درجنوں خودکش کاروں کو بھی ناکارہ بنادیا گیا.

انہوں نے کہا کہ موصل کو آزاد کرانے کے دوران 86 ممالک سے تعلق رکھنے والے 130 کمانڈروں سمیت داعش کے 28 ہزار دہشتگرد ہلاک ہوگئے جن میں سے 225 نفر لاجسٹک اور جنگی آلات پر کمانڈ کرتھے تھے.

تہران کے امام جمعہ نے قومی یوم عفت اور حجاب کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ حجاب ایک اہم مسئلہ ہے جس کا تعلق نہ صرف دین بلکہ ملکی سیاسی اور خودمختاری سے ہے.

انہوں نے ایرانی پولیس سے مطالبہ کیا کے قانون کے مطابق ملک میں بے حجابی کو مسئلے سے نمٹ لے.

٢٧٤**