ایرانی سائنسدان کو امریکہ میں داخلے سے روکنے پر نائب ایرانی صدر کا اظہار افسوس

تہران - ارنا - ایران کے نائب صدر برائے سائنسی اور ٹیکنالوجی امور نے امریکہ میں ایک ایرانی سائنسدان کو داخلے سے روکنے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات سے ہمارے سائنسدانوں کے عزم اور ارادے متاثر نہیں ہوسکتے.

نائب ایرانی صدر 'سورنا ستاری' نے جمعرات کے روز اپنے ایک بیان میں مزید کہا کہ ایرانی سائنسدان اور نینو ٹیکنالوجی کے ماہر پروفیسر 'سید حسن دہنوی' کی امریکہ آمد اور ان کو واپس بھیجنا نہایت افسوسناک ہے.

انہوں نے کہا کہ تمام قانونی اقداماے اٹھانے کے باوجود اور متعلقہ امریکی یونیورسٹی کے باضابطہ دعوت نامے ہونے کے باوجود امریکی حکام کی جانب سے ایرانی پروفیسر اور ان کے اہل خانہ کو ملک میں داخل نہ ہونے دینا بلاجواز ہے.

سورنا ستاری نے مزید کہا کہ ایسے واقعات سے ہمارے سائنسدانوں کی سرگرمیوں کو متاثر نہیں کرسکتے مگر مجموعی طور پر سائنسی شعبے میں تعاون کی خواہش رکھنے والوں کے لئے عدم اطمینان کی علامت ہے.

یاد رہے کہ پروفیسر دہنوی اپنے اہل خانہ کے ساتھ پیر کے روز امریکی شہر بوسٹن کے بین الاقوامی ہوائی اڈے لوگن جب پہنچے تو امریکی بارڈر سیکورٹی فورسز نے ان کو عارضی طور پر حراست میں لیا اور پھر ایک پرواز کے ذریعے واپس بھیج دیا.

ایرانی پروفیسر کا بوسٹن جانے کا مقصد وہاں کے چیلڈرن اسپتال میں اپنی سائنسی سرگرمی کو جاری رکھنا تھا.

٢٧٤**