آج ایران جوہری معاہدے پر امریکہ مشکل حالات سے گزر رہا ہے: صدر روحانی

تہران - ارنا - ایران کے صدر نے انتہاپسندی اور دہشتگردی کو خطے اور پوری دنیا کے لئے بڑا خطرہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج ایران جوہری معاہدے کے حوالے سے امریکہ اپنے وعدوں کو عملی جامہ پہنانے پر مشکل حالات سے گزر رہا ہے.

ان خیالات کا اظہار 'حسن روحانی' نے بدھ کے روز تہران میں کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

صدر حسن روحانی نے خطے کی صورتحال بالخصوص دہشتگردوں کے خلاف عراقی کی حالیہ فتح کے حوالے سے کہا کہ خطے کے عوام عراق میں دہشتگردوں کے خلاف جیت اور موصل کو مکمل آزاد ملنے پر خوش ہیں.

روحانی نے کہا کہ جبکہ داعش دہشتگردوں نے عراق پر حملہ کیا اسلامی جمہوریہ ایران پہلے ملک تھا جو عراق کی حمایت اور اس ملک کے ساتھ شانہ بشانہ کھڑا اسی لئے علاقائی اقوام ایران کے ایسے اقدام کو ہرگز فراموش نہیں کریں گے.

انہوں نے کہا کہ بڑے طاقتور ممالک نے افغانستان اور عراق میں فوجی مداخلت کرتے ہوئے اور علاقے میں بدامنی اور تنازعات کا باعث بن گیا.

ایرانی صدر نے کہا کہ بد قسمتی سے بعض علاقائی ممالک نے ان طاقتور ممالک کے اقدامات کی حمایت کی اور ان ممالک نے اعلان کیا کہ عراقی وزیر اعظم اس ملک کے بحران کی وجہ ہے اور سنی اور شیعی لوگوں کے درمیان تفرقہ ڈالنا کے لئے بھر پور کوششیں کی.

انہوں نے بتایا کہ ان ممالک دہشتگردوں کے ذریعہ اپنے مقاصد کو حصول چاہتا ہے اور آج اسلامی جمہوریہ ایران کی قوم بہت خوش ہیں کیونکہ انہوں نے دنیا بھر میں ثابت کیا کہ ایرانی قوم ہمیشہ صحیح راستے پر قدم اٹھ رہی ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی گیارھویں حکومت کے ابتدا میں ہم نے اقوام متحدہ کے اجلاس میں کہا کہ تشدد اور انتہا پسندی تمام دنیا کے لئے ایک بڑا خطرہ ہے اور عالمی برادری کو اس کے خاتمہ کرنے کے لئے باہمی تعاون کرنا چاہیئے اور خوش قسمتی سے اقوام متحدہ نے ایران کی تجویز کو منظور کیا.

صدر مملکت نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ذہین موقف کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت میں کئی یورپی ممالک ایران کی تجویز کو قبول نہیں کرتے ہوئے مگر اب انہوں نے اعتراف کیا کہ ہماری تجویز تعمیری اور سنجیدہ تھا.

انہوں نے بتایا کہ یورپی ممالک نے دہشتگردوں کی نوعیت کو چھپانے کے لئے دعوی کیا کہ عراقی قوم اپنی حکومت کو نہیں چاہتے اور اس کو بدل کرنا چاہیئے.

ایرانی صدر نے کہا کہ اسلامی انقلاب کے دوران میں ہمارے ملک بعض دشمن گروپ کی جانب سے داعش دہشتگردوں کی طرح وحشیانہ اقدامات کا شکار ہوگیا.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہمارے ملک تمام حالات میں ثابت کرتا ہے کہ دنیا اور علاقے کے لئے ایک بڑی حکمت والا پالیسی رکھتا اور اس نے جوہری معاہدے میں ثابت کیا کہ ہم 6 طاقتور ممالک، اقوام متحدہ، سلامتی کونسل کے ساتھ پیچیدہ عالمی مسائل کے پر امن حل کا مطالبہ کرتے ہیں اور یہ ایرانی نظام اور قوم بالخصوص سپریم لیڈر کی ذہانت کی علامت ہے.

انہوں نے کہا کہ آج ہمارے اقوام استحکام، سلامتی اور جوہری معاہدے کی صلاحیتوں سے استعمال کرسکتے ہیں.

صدر مملکت نے کہا کہ امریکہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف ہر سازشیں کرکے کیونکہ عالمی جوہری معاہدے امریکہ کے لئے ضررساں ہوجائے گا اور اس کی خلاف ورزی کررہا ہے.

صدر روحانی نے کہا کہ ایرانی حکومت قوم کا نمائندہ ہے اور قوم کی پشت و پناہی کے ذریعہ ملک کی ترقی کے لئے سنجیدہ اقدامات کررہا ہے اور جوہری معاہدہ اسلامی جمہوریہ ایران کی بڑی کامیابی ہے.

انہوں نے بتایا کہ دہشتگردوں سے مقابلہ کرنے کا راستہ بہت طویل ہے اور ایران ایک طاقتور ملک ہے اور کسی بھی ملک کو اس پر جارحیت کی اجازت نہیں دینی چاہیئے اور اپنے ملک کے خلاف کوئی اقدام کو فیصلہ کن جواب دیں گے.

9393*274**