مشکلات کے باوجود پاک،ایران تجارت کا مستقبل روشن ہے: سنئیر پاکستانی عہدیدار

اسلام آباد - ارنا - ایک سنئیر پاکستانی عہدیدار نے اس امید کا اظہار کیا ہے کہ مشکلات کے باوجود اسلامی جمہوریہ ایران اور پاکستان آنے والے سالوں میں باہمی تجارتی حجم کو پانچ ارب ڈالر تک لے جائیں گے.

ان خیالات کا اظہار پاکستانی وزارت تجارت کے جوائنٹ سیکرٹری 'بلال خان پاشا' نے ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران کے ساتھ تجارت کرنے کا ایک فائدہ یہ ہے کہ پاکستان بہت ساری ایسی چیزیں بناتا ہے جن کی ایران میں مانگ ہے اور اسی طرح بہت ساری ایرانی مصنوعات کی پاکستان میں مانگ ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ تجارتی مذاکرات کمیٹی کے حالیہ اجلاس سے دونوں ممالک کو باہمی تجارت کے حوالے سے مختلف معاملات پر جائزہ لینے کا موقع فراہم ہوا.

بلال خان پاشا نے کہا کہ اس وقت پاک،ایران ترجیحی تجارتی معاہدہ (PTA) سات ہزار اشیا میں سے صرف 300 مصنوعات پر لاگو ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ پانچ ارب ڈالر کے ہدف جو پانے کے لئے ہمیں اس فہرست میں اضافہ کرنا ہوگا اور ہمیں ان اشیا پر زیادہ توجہ دینی پڑے گی جو زیادہ مانگ میں ہیں جیسا کہ پاکستان زراعتی مصنوعات، ٹیکسٹائل، چاول اور بہت ساری اشیا ایران کو درآمد کرسکتا ہے اور اس کے بدلے میں پیٹرو کیمیکل مصنوعات، سیمنٹ اور کیمیائی مواد برآمد کرسکتا ہے.

سنئیر پاکستانی عہدیدار نے بتایا کہ تجارتی مصنوعات پر لاگو اضافی ڈیوٹی اور کراچی اور بندرعباس کی بندرگاہوں کے درمیان شپنگ لائن کی عدم دستیابی دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اہم رکاوٹیں ہیں.

انہوں نے مزید کہا ہماری ایران کے ساتھ 900 کلومیٹر طویل سرحد ہے جبکہ تجارت کے لئے صرف پانچ سرحدی چوکیاں قائم ہیں اور ان میں سے بھی پاکستانی طرف سے صرف ایک چوکی جو تفتان میں موجود ہے، کام کرہی ہے.

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کی تجارت میں اضافے کے لئے بینکاری شعبے میں تعاون کی بحالی ناگزیر ہے.

یاد رہے کہ ایران اور پاکستان آجکل آزادانہ اور ترجیحی تجارتی معاہدوں کے حوالے سے اسلام آباد میں مذاکرات کررہے ہیں ان مذاکرات کا پہلا گزشتہ سال دسمبر میں تہران میں منعقد ہوا.

پیچھلے سال ایران اور پاکستان کے درمیان تجارتی حجم ایک ارب ڈالر تک پہنچ گیا جو ایران جوہری معاہدے کے مثبت نتائج میں سے ہے.

٢٧٤**