صہیونیوں سے مسلمانوں کیخلاف صرف دشمنی کی توقع کی جاسکتی ہے: ایرانی اسپیکر

تہران - ارنا - ایرانی مجلس (پارلیمنٹ) کے اسپیکر نے بعض اسلامی ممالک اور ناجائز صہیونی ریاست کے درمیان باہمی تعلقات پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ صہیونیوں سے مسلمانوں کے خلاف دشمنی کے سوا کسی اور چیز کی توقع نہیں کی جاسکتی.

یہ بات 'علی لاریجانی' نے منگل کے روز تہران کے دورے پر آئے ہوئے ایران،نائجر پارلیمانی فرینڈشپ گروپ کے صدر اور رکن نائجر پارلیمنٹ 'ماسانی کورونی' کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ بعض اسلامی ممالک نے ناجائز صہیونی ریاست کے ساتھ دوطرفہ تعلقات قائم کیا جو کوئی شک نہیں ہے کہ ایسے تعلقات ان کے لئے ضررساں ہوجائے گا.

لاریجانی نے کہا کہ نائجر ایک مسلم ملک ہے جو دوسرے مسلمانوں کے مسائل کے حل میں اہم کردار ادا کرتا ہے.

ایرانی اسپیکر نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کے تمام مسلمانوں کے اہم مسئلہ دہشتگردوں سے مقابلہ کرنا ہے اور اس کے تیزتر حل کرنا ناگزیر ہے.

کورونی نے نائجر کے اسپیکر کی جانب سے ایران کے حالیہ دو دہشتگردی واقعے پر تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہم اسلامی جمہوریہ ایران کی پارلیمنٹ کے ساتھ باہمی تعاون کی ترقی کے لئے تیار ہیں اور ہمیں اس طریقے میں تمام ضروری اقدامات فراہم کرنا چاہیئے.

انہوں نے ایرانی اسپیکر سے نائجر کی پارلیمنٹ کی حمایت کا مطالبہ کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ دوران سے اب تک نائجر پر عالمی دباؤں ڈالنے کے باوجود مسلمانوں کے مفادات کے لئے اس دباؤں کے مقابلے میں شکست نہیں کھاتا ہے.

انہوں نے کہا کہ منعقدہ مسئلہ فلسطین کے حوالے سے عالمی کانفرنس میں نائجر کے ایک وفد نے شرکت کی اور افریقہ میں ایک علاقائی اجلاس کا انعقاد ہوگیا جس میں ناجائز صہیونی ریاست کے وزیر اعظم نے شرکت کی اسی لئے ہمارا صدر نے مسلمانوں کے حق کے دفاع کے لئے منعقدہ اجلاس میں شرکت نہیں کی.

9393*274**