شیعہ اور سنی نے مل کر موصل کو آزاد کرایا: حسن نصراللہ

بیروت - ارنا - لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے سیکرٹری جنرل نے عراق میں آیت اللہ العظمی 'سید علی سیستانی' کی مذہبی ہدایات اور ان کے تاریخی فتوے کو داعش کے خلاف فتح کی اصل بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ شیعہ اور اہل سنت نے ایک دوسرے کے ساتھ مل موصل شہر کو آزاد کرالیا.

ان خیالات کا اظہار 'سید حسن نصر اللہ' نے گزشتہ روز لبنانی ٹی وی 'المنار' سے براہ راست نشر ہونے والے ایک خصوصی پروگرام میں خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ داعش دہشتگردوں کے قبضے سے عراقی شہر موصل کی آزادی صرف عراق کے لئے نہیں بلکہ خطے اور علاقائی کے آئندہ سے منسلک ہے.

حسن نصراللہ نے نجف کے مذہبی راہنماوں، عراقی حکام اور مسلح افواج بشمول حشد الشعبی فورس کی بہادری ، مجلس کے اسپیکر سمیت 'حیدر العبادی'، شہدا کے لواحقین اور خاص طور پر اسلامی جمہوریہ ایران اور ایرانی سپریم لیڈر 'آیت اللہ خامنہ ای' کوموصل کی مکمل آزادی پر مبارکباد پیش کی.

انہوں نے آیت اللہ سیستانی کے حکم کی اہمیت کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کے فتوی نے عراقی قوم کو بچا لیا گیا اور یہ حکم صرف شیعی قوم کے لئے نہیں بلکہ تمام عراقی اقوام سے متعلق تھا.

لبنان کی مزاحمتی تنظیم کے سربراہ نے کہا کہ اس فتوی نے عراقی قوم، مسلح افواج بالخصوص حشد الشعبی کے بہادر فورس کی حوصلہ افزائی کو فروغ دے دیا.

انہوں نے مزید کہا کہ عراقی قوم، سیاسی حکام اور اسلامی جمہوریہ ایران بالخصوص آیت اللہ خامنہ ای اور پاسدارن انقلاب کے فورسز نے آیت اللہ سیستانی کے حکم کی تعمیل کی.

انہوں نے بتایا کہ عراقی قوم اپنے جان عزیز کو ملک کی آزادی کے لئے قربان اور مستحکم ارادے کے ساتھ داعش دہشتگردوں کے ساتھ جنگ میں شرکت کرتے ہوئے اوراپنے ملک کے مستقبل کے لئے عرب لیگ، اقوام متحدہ، سلامتی کونسل اور دوسرے بین الاقوامی تنظیموں کی مدد کے بغیر ایسی بڑی کامیابی حاصل کی.

انہوں نے سنی مذہبی راہنماوں کا تعمیری کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ عراقی سنی راہنماوں اپنے ہوشیار اور ذہانت کے ساتھ داعش دہشتگردوں کی سازشوں کو ناکام بن سکے.

نصراللہ نے کہا کہ عشائر قبائل اس کامیابی میں اہم کردار رکھتے کیونکہ انہوں نے سیکورٹی اور اقتصادی بری صورتحال کے باوجود اپنے وطن عزیز کی آزادی کے لئے تمام سخت لمحوں کو برداشت کیا.

انہوں نے اس بات پر زور دیا عراقی قوم نے اجنبیوں کی طاقت پر انحصار نہیں کیا کیونکہ امریکیوں نے کہا کہ 30 سال کے بعد داعش ناکام ہوسکے گا اور جبکہ بعض عرب میڈیا نے امریکہ کی مدد کے ذریعہ عراقی شہر موصل کی آزاد کی جھوٹی خبریں نشر کی اور امریکی صدر ٹرمپ نے اس بات پر اعتراف کیا کہ امریکی پچھلی حکومت اور ان کے وزیر خارجہ 'کلینٹون' نے عراق اور علاقے میں داعش دہشتگردوں قائم کیا.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ موصل کی آزادی ایک بڑا قدم تھا کیوکنہ یہ کامیابی عراق، شام اور تمام علاقائی ممالک میں مثبت اثر پڑے گا اور ہمیں امید ہے عراقی بہادر قوم گزشتہ تین سال کی طرح عراق کے تمام علاقے میں داعش دہشتگردوں کو تباہ کریں اور ایسے سفاک گروپ کی بحالی کی اجازت نہیں دینی چاہیئے.

تفصیلات کے مطابق عراقی وزیر اعظم 'حیدر العبادی' نے گزشتہ اتوار اعلان کیا عراقی شہر موصل داعش دہشتگردوں کے قبضے سے مکمل طور پر آزاد کرا لیا.

یاد رہے کہ موصل جس پر گزشتہ تین سالوں سے داعش کے دہشتگردوں کا قبضہ تھا.

9393*274**