بجلی میں بچت کے حوالے سے عوامی تعاون ناگزیر ہے: نائب ایرانی صدر

تہران - ارنا - سنئیر نائب ایرانی صدر نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ملک میں بجلی کے غیرضروری استعمال میں بچت کے لئے عوامی تعاون ناگزیر ہے.

يہ بات 'اسحاق جہانگيري' نے پير كے روز توانائي كي سپريم كونسل كے اجلاس ميں خطاب كرتے ہوئے كہي.

اس موقع پر انہوں نے بجلي كے غيرضروري استعمال كے حوالے سے ايراني وزارت توانائي كي رپورٹ كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ اگر ايراني قوم حكومت كے ساتھ بجلي ميں بچت كے حوالے سے باہمي تعاون نہ كريں تو وزارت توانائي كي تمام كوششيں سے مطلوبہ نتائج موصول نہيں ہو سكيں گے.

انہوں نے بجلي اور قدرتي گيس كي برآمدات كے حوالے سے ايك كميٹي كي تشكيل كي طرف اشارہ كر تے ہوئے كہا كہ نجي كمپنيوں كي سہولتوں كے لئے بجلي اور قدرتي گيس كي برآمدات كي سنجيدہ منصوبہ بندي ضروري ہے.

اس اجلاس ميں وزرائے تيل، صنعت، كان كني، تجارت، سڑكيں اور شہري ترقي اور ايراني صدر كے معاون برائے سائنسي اور ٹيكنالوجي امور، پروگرام، بجٹ، جوہري توانائي اور ماحوليات كي حفاظت كي تنظيموں كے سربراہوں نے شركت كي ہے.

ايك رپورٹ كے مطابق، ايراني وزارت تيل كے سنجيدہ اقدامات كے ساتھ 2011 سے 2015 تك خام تيل كے استعمال ميں 44.8 كروڑ بيرل كي بچت ہوگئي ہے اسي لئے 17.2 كروڑ ٹن كاربن ڈائي آكسائيڈ ميں كمي آئي ہے.

ان چار سالوں كے دوران ايراني جوہري توانائي ادارے نے 14.1 ارب كلو واٹ بجلي پيدا كي ہے.

اس اجلاس ميں توانائي اور ماحولياتي اصلاح كي ماركيٹ كے انعقاد كي تجويز پيش كي گئي.

9393*274**