ایران تمام الہامی ادیان کے پیروکاروں کیلئے ایک محفوظ ملک ہے

تہران - ارنا - ایران کے عیسائی فرقے آشوری سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ نے کہا ہے کہ آج علاقائی ممالک میں بسنے والے الہامی ادیان کے پیروکار بالخصوص مسلمان اور عیسائی ظلم اور تشدد کے شکار ہیں مگر ان تمام ادیان کے پیروکاروں کے لئے ایران ایک محفوظ ملک ہے اور یہاں سب امن اور بھائی چارے میں زندگی گزار رہے ہیں.

یہ بات ' یوناتن بت کلیا' نے گزشتہ روز تہران میں بیلجئیم کے طالب علموں کے وفد کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے خطے اور دنیا میں دہشت گردی اور انتہا پسندی کے خطرے کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا بھر میں الہامی ادیان بشمول مسلمانوں، عیسائیوں اور یہودیوں کے پیروکاروں، دہشت گردی اور انتہا پسندی کا شکار ہیں جبکہ ایران میں مختلف فرقوں کے پیروکاروں ایک دوسرے کے ساتھ دوستی اور محبت سے زندگی گزار کرتے ہیں.

ایران کی پرانی ثقافت اور تہذیب کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے مزید بتایا کہ ایران میں بہت سالوں سے الہامی ادیان کے پیروکاروں، اپنی خصوصی مذہبی روایات پر آزادی کے ساتھ عمل کر رہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ ایران میں بہت سے کنائس، گرجوں، مندروں اور غیر مسلموں کی عبادت گاہوں موجود ہے جو ایران کے ثقافتی ورثے کی فہرست مین شامل ہیں اور ایران کے ثقافتی ورثے ادارے کی جانب سے سالانہ بحال ہو رہے ہیں.

ایرانی مجلس کے آشوری اقلیت کے نمائندے نے 'سیامک مُرّه صدق' کہا کہ کسی بھی قوم، نسل اور مذہب سے قطع نظر ایران، اس سرزمیں کے تمام باشندوں سے متعلق اور تمام ادیان کے پیروکاروں کے لئے ایک محفوظ ملک ہے.

9410٭274٭٭