ایران،روس اور ترکی شام امن عمل کو آگے بڑھائیں گے: پوٹن

ماسکو - ارنا - روسی صدر نے آستانہ عمل کے تحت ایران، روس اور ترکی کے درمیان تعاون کے تسلسل جاری رکھنے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ تینوں ممالک شام امن مذاکرات کے عمل کو اگلے مراحل کے لئے آگے بڑھائیں گے.

یہ بات صدر 'ولادیمیر پوٹن' نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی اور اس موقع پر انہوں نے جرمنی میں جی-20 اجلاس کے موقع پر عالمی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والے ملاقاتوں پر بھی روشنی ڈالی.

انہوں نے کہا کہ امن عمل کے تناظر میں مثبت کارکردگی کو مدنظر رکھتے ہوئے بالخصوص ایران، ترکی بشمول شامی صدر بشار الاسد کے شفاف اقدامات کے پیش نظر شامی بحران کو حل کرنے لئے اگلے مراحل میں داخل ہوں گے.

انہوں نے مزید کہا کہ روس، شامی بحران کے خاتمے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران اور ترکی کے ساتھ مشترکہ تعاون کو جاری رکھے گا.

صدر پوٹن نے اس بات پر زور دیا کہ موجود صورتحال میں شام میں امن علاقوں کی نشاندہی اور سرحد بندی اور ان علاقوں میں امن و امان کی بحالی کو یقینی بنانے کے لئے موثر اقدامات اٹھانے ہوں گے.

انہوں نے مزید کہا کہ اردن کے سرحدی علاقے اور گولان کی بلندیوں تک امن زون کے قیام کے لئے حکمت عملی بنائی گئی ہے تاہم اس حوالے سے شام کی خودمختاری اور جغرافیائی سالمیت کا بھی ہر حال میں احترام کرنا ہوگا.

روسی صدر نے کہا کہ شام میں امن زون علاقوں کے قیام کا مرحلہ کامیاب ہونے کی صورت میں اس ملک میں جاری بحران کے خاتمے کے لئے اچھی فضا قائم ہوگی.

یاد رہے کہ گزشتہ ہفتے اسلامی جمہوریہ ایران، روس اور ترکی کے وفود نے آستانہ میں منعقدہ شامی امن مذاکرات کے پانچویں دور کے موقع شام میں امن زون پر خصوصی کمیٹی تشکیل دینے پر اتفاق کیا.

اس کے علاوہ اتفاق کیا گیا کہ شامی امن مذاکرات کے چھٹے دور کا اگست کے اواخر میں آستانہ میں انعقاد کیا جائے گا.

ياد رہے کہ 4 مئی کو قازقستان کے دارالحکومت 'آستانہ' ميں اسلامی جمہوريہ ايران، روس اور ترکی کی باہمی مشاورت سے شام امن مذاکرات کے چوتھے دور ميں تینوں ممالک کے سنئير سفارتکاروں کے علاوہ اقوام متحدہ کے ايلچی برائے امور شام، امريکہ اور اردنی کے نگران وفود کی موجودگی ميں شام ميں امن زون کے قيام کے معاہدے پر دستخط کئے گئے جن ميں ادلب، شمالی حمص، مشرقی غوطہ اور جنوبی شام کو امن زون قرار ديا گيا.

اس معاہدے کے تحت يہ تينوں ممالک شام ميں ان چار امن زون کے قيام کے مقصد سے داعش اور النصرہ فرنٹ سميت تمام دہشتگرد گروپوں کے خلاف جنگ کے ليے ضروری اور موثر اقدامات اٹھائيں گے.

اس معاہدے ميں شامی سرکاری فورسز اور مخالف فوج کے درميان تمام فوجی کارروائيوں کی روک تھام، شامی شہريوں کو آسانی سے انسانی اور طبی امداد تک رسائی، بنيادی ڈھانچے کی تعمير نو اور پناہ گزينوں کی واپسی پر زور ديا گيا ہے.

٢٧٤**