ایران اور ٹوٹل کمپنی کا معاہدہ، مزاحمتی اقتصاد پالیسی کے بہتر نفاذ کیلئے ہے

ویانا - ارنا - ایران کی قومی پیٹروکیمیکل مصنوعات کمپنی کی منیجنگ ڈایریکٹر نے کہا ہے کہ ایران اور فرانسیسی تیل کمپنی ٹوٹل کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا مقصد جوہری معاہدے کے بعد تیل صنعت کے فروغ اور ملک میں مزاحمتی اقتصاد پالیسی کے بہتر نفاذ ہے.

یہ بات 'مرضیہ شاہدائی' نے اتوار کے روز آسٹریا کے دارالحکومت ویانا میں منعقدہ پیٹروکیمیکل صنعت میں سرمایہ کاری کے مواقع کی عالمی کانفرنس کے اختتامی تقریب کے موقع پر ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہون نے کہا کہ اس سے پہلے ہم نے ٹوٹل کمپنی کے ساتھ ام او یو (MOU) معاہدے پر دستخط کیا اور اب اچھے مرحلوں میں پہنچ گیا ہے.

شاہدائی نے کہا کہ اس سے پہلے ٹوٹل کمپنی نے ایرانی پیٹروکیمیکل صنعت میں ہرگز سرمایہ کاری نہیں کیا مگر اب ایرانی وزارت تیل کی مدد سے اور مزاحمتی اقتصاد کی پالیسی کے نفاذ کے لئے ایرانی پیٹروکیمیکل کی صنعت میں سرمایہ کاری کرتا ہے.

انہوں نے ویانا میں منعقدہ عالمی پیٹروکیمیکل کی کانفرنس کے حوالے سے کہا کہ ایرانی قومی پیٹروکیمیکل کمپنی اس صنعت کی پالیسی ساز ہے اور پیٹروکیمیکل صنعت کی سہولتیں فراہم کرنا، معاہدوں کا نفاذ اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنا ان کی ذمہ داریاں ہیں.

نائب ایرانی وزیر تیل نے کہا کہ ہم اپنی پالیسیوں کے مطابق ملک اور بیرون ملک سمیت آسٹریا میں مختلف کانفرنس اور اجلاسوں کا انعقاد کررہے ہیں کیونکہ وہ تکنیکی علم اور سرمایہ کاری کے ذریعہ تیل، گیس اور پیٹروکیمیکل کے شعبوں میں مدد کرسکتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ منعقدہ عالمی کانفرنس کی شرکت سے ہمارا مقصد مختلف بینکیں، انشورنس، سرمایہ کاروں، آسٹریا، جرمنی اور فرانس کے چیمبر آف کامرس کے سربراہوں کو اسلامی جمہوریہ ایران میں موجود مواقع کا تعارف کرنا ہے.

ایران کی قومی پیٹروکیمیکل کی منیجنگ ڈایریکٹر نے کہا کہ منعقدہ کانفرنس کے ایک حصے میں ایران اور آسٹریا کے درمیان بینکاری اور اقتصادی تعلقات کے حوالے سے ایک دوطرفہ اجلاس انعقاد کیا جس میں ایران کے خلیج فارس خطے اور مارون پیٹروکیمیکل کے متعدد مواقع پر تبادلہ خیال کیا.

انہوں نے مزید کہا کہ منعقدہ دو روزہ کانفرنس میں ہم نے شرکت کرنے والوں کے ساتھ مختلف نشستیں انعقاد کیا اور وہ یورپ میں ایران کی موجودگی کا خیرمقدم کرتے ہیں.

خاتون ایرانی عہدیدار نے کہا کہ گزشتہ سال منعقدہ کانفرنس کامیابی کے ساتھ جرمن میں انعقاد کیا جس میں جرمن اور یورپی بڑی کمپنیوں نے ایران میں سرمایہ کاری کے لئے اپنی تیاری کا اعلان کیا.

انہوں نے بینکاری اور انشورنس کے موجودہ مسائل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور آسٹریا کے درمیان اس مسائل کے حل پر تبادلہ خیال کیا گیا.

شاہدائی نے کہا کہ خوش قسمتی سے ہم نے بڑی کمپنیوں سمیت لینڈہ، ایرلیکویید، ٹوٹل، شل، باسف، جاپانی اور کوریائی کمپنیوں کے ساتھ اب تک 7 یا 8 معاہدوں پر دستخط کیا ہے.

9393*274**