شام کو دھمکانے کا مقصد خطے میں ھتھیاروں کی فروخت میں اضافہ کرنا ہے: ایران

تہران - ارنا - سنئیر ایرانی سفارتکار نے کہا ہے کہ یمن کے خلاف جاری جارحیت، علاقائی تنازعات کو طول دینا بالخصوص شام پر حملے کرنے کی دھکمیوں کا مقصد خطے میں ھتھیاروں کی فروخت میں مزید اضافہ کرنا ہے.

یہ بات ایرانی اسپیکر کے معاون خصوصی برائے بین الاقوامی امور 'حسین امیرعبداللھیان' نے گزشتہ روز ایران میں تعینات شام کے سفیر 'عدنان محمود' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر تہران،دشمق تعلقات کو اہم اور مثالی قرار دیتے ہوئے انہوں نے مزید کہا کہ شام، ناجائز صہیونی ریاست اور دہشتگردوں کے خلاف محاذ میں فرنٹ لائن پر ہے اور خطے میں انسداد دہشتگردی کے حوالے سے شام کی جدوجہد مثالی ہے.

انہوں نے ایران اور شام کے پارلیمانی وفود کے درمیان باہمی تبادلوں پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پارلیمانی مشاورت بہت اہم ہے اور اس مقصد کے لئے عنقریب دونوں ممالک کے پارلیمانی وفود کے درمیان ملاقات ہوگی.

سنئیر ایرانی سفارتکار نے امریکہ، ناجائز صہیونی ریاست اور سعودی عرب خطی تنازعات بالخصوص شامی بحران کے حوالے سے منفی اقدامات کررہے ہیں.

انہوں نے کہا کہ شام کے خلاف امریکی، صہیونی اور سعودی مہم جوئی کا مقصد دہشتگردوں کی حوصلہ افزائی کرنا ہے.

اس ملاقات میں شام کے سفیر نے ایران کے ساتھ دوطرفہ تعاون پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں ایران کا کردار اہم ہے اور علاقائی تنازعات کے خاتمے کے لئے ایرانی کردار کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا.

عدنان محمود نے مزید کہا کہ امریکہ کا اصل مقصد خطے میں ایران کو اپنے تعمیری کردار نبھانے سے دور رکھنا ہے جبکہ دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں اسلامی جمہوریہ ایران کی نمایاں کارکردگی کسی سے پوشیدہ نہیں ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ شامی حکومت خطی تنازعات اور بحرانوں کو پُرامن اور مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کی تمام کوششوں کی حمایت کرتی ہے.

٢٧٤**