سعودی عرب کے ایران مخالف اقدامات، خود ان کے لیے ضرررساں ثابت ہوں گے

تہران - ارنا - امریکی میگزین 'فارن پالیسی' نے کہا ہے کہ مشرق وسطی میں موجودہ بحرانوں سے نکلنے کا واحد راستہ، امریکہ کی جانب سے ایران اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات کی بحالی اور قطر کے ساتھ موجودہ اختلافات کے پر امن حل کی حمایت کرنا ہے.

اس ميگزين ميں مزيد كہا گيا ہے كہ سعودي عرب كے ايران مخالف اقدامات، خود كے ليے ضرررساں ہوں گے اور دوسري عبارت ميں يہ اقدامات، خطے ميں سعودي عرب كي پوزيشن كو كمزور كر رہے ہيں.

امريكي پروفيسر اور سياسي ماہر 'روس هريسون' نے اپنے مضمون ميں لكھا ہے كہ ايران كے خلاف سعودي عرب كي شديد تنقيد اور ايك ہي وقت ميں قطر كے خلاف پابندياں عائد كرنا، رياض كے موقف كو كمزور اور ان كے سياسي نظام كو خطرے ميں ڈالے گا.

انہوں نے مزيد بتايا كہ امريكہ كو تہران كے ساتھ سفارتي تعلقات كي بحالي كے ليے سعودي عرب كي حوصلہ افزائي كرني چاہيے كيونكہ علاقائي بحرانوں كا حل صرف ممالك كے باہمي تعاون سے ممكن ہوگا.

انہوں نے رياض كي موجودہ پاليسي، دہشتگرد داعش گروپ كے خلاف جنگ ميں بين الاقوامي كوششوں كو كمزور كرے گي.

انہوں نے مزيد بتايا كہ ايران كے ساتھ رياض كي دشمني كي توسيع،دنيا ميں موجودہ بحرانوں اور عرب خطے كے مسائل اور تنازعات كو فروغ دے گي.

امريكي جريدے نے كہا كہ شامي صدر 'بشار الاسد' سے ايران اور روس كي حمايت كے باوجود شام ميں سني مسلح مخالف، ايران اور بشار الاسد كے ليے سنگين خطرہ ہوں گے.

دوسرے الفاظ ميں شام ميں سني مسلح گروپوں كي موجودگي، جہان عرب كے دوسرے حصوں كو متاثر كر سكتي ہے اور يہ ايران كے مقابلے ميں سعودي عرب كي پوزيشن كو كمزور كرے گي.

امريكي جريدے نے كہا كہ سعودي عرب كي جانب سے قطر پر دباو ڈالنا عرب خطے كو دو حصوں ميں تقسيم اور اختلافات ميں اضافہ كرنا ہے.

*9410*272**