ایرانی صدر کے معاون خصوصی کی تاتارستانی حکام کیساتھ ملاقاتیں، باہمی تعاون پر گفتگو

ماسکو - ارنا - ایرانی صدر کے معاون خصوصی برائے مذہبی اور اقلیتی امور علامہ 'علی یونسی' نے روس کی خودمختار ریاست تاتارستان کے اعلی حکام کے ساتھ اپنی ملاقاتون میں ثقافتی اور مذہبی شعبوں میں باہمی سرگرمیوں کو بڑھانے کے حوالے سے تبادلہ خیال کیا.

تفصیلات کے مطابق، صدر ایران کے معاون خصوصی نے تاتارستانی پارلیمنٹ کے اسپیکر 'فرید محمدشین'، مفتی اعطم 'ساموگولین کامیل' اور تاتارستان کے سابق صدر 'مینتی شایمییف' کے ساتھ ملاقاتیں کیں.

اس موقع میں انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دوستانہ اور قریبی تعلقات کو مزید بڑھانے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا.

علامہ علی یونسی نے ایران اور تاتارستان کے درمیان باہمی تعلقات سمیت اقلیتی امور اور مذہبی ہم آہنگی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو مزید مضبوط کرنے پر زور دیا.

تاتارستان کے اسپیکر 'محمد شین' نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو فروغ دینے پر خیر مقدم کرتے ہوئے بتایا کہ تاتارستانی عوام، ایرانی عوام اور حکومت کے ساتھ تعلقات بڑھانے کے لیے بہت دلچسبی رکھتے ہیں اور اس حوالے دونوں ممالک کے دیرینہ تاریخی تعلقات، ایران اور تاترستان کے تعلقات کی توسیع کے لیے ایک بہت اچہا موقع میسر کرے گا.

یونسی نے تاتارستانی مذہبی مفتی 'ساموگولین کامیل' کی ملاقات کے موقع دونوں ممالک کے سائنسی، ثقافتی اور مذھبی تعلقات کو وسعت دینے کے طریقوں کا جائزہ لیتے ہوئے اور اسلامی اقدار کے فروغ میں اس ملک کے اسلامی مرکز اور تاتارستانی مفتی کی کوششوں کو سراہا.

کامیل نے سائنسدانوں اور علماء کے آثار کی حفاظت کے لیے دونوں ممالک کے تاریخی، مذہبی اور ثقافتی مشترکات کے مثبت اثرات پر زور دیتے ہوئے اور دونوں ممالک کے مذھبی اور سائنسی تعلقات کی توسیع اور اساتذہ اور طالب علموں کے تبادلے کے لیے اپنی مکمل آمادگی کا اظہار کیا.

تاتارستان کے سابق صدر نے بھی ایراں اور روس کے اچھے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے اعلی سربراہوں کے دوروں اور تبادلہ خیال، دونوں ممالک کے گہرے تعلقات اور باہمی روابط کو توسیع دینے میں مدد کر رہا ہے.

انہوں نے کہا کہ ایران کی ثقافت پرانی اور ایران، تاتارستان کے ساتھ ثقافتی اور اقتصادی تعلقات کی توسیع کے لیے اچھی اور عظیم صلاحیتوں کا حامل ہے.

انہوں نے دونوں ممالک کے حکاموں کے درمیان ملاقاتیں کا تسلسل اور ثقافتی شعبے میں تبادلہ خیال کرنے کی ضرورت پر زور دیا.

علامہ یونسی نے دونوں ممالک کے باہمی ثقافتی تعلقات کے فروغ دینے پر اہمیت دیتے ہوئے بتایا ایرانی صدر مملکت کے منصوبہ 'دنیا تشدد کے بغیر' کے عنوان سے عالمی سطح پر استقبال کیا گیا ہے جو یہ دونوں قوم کے تعلقات کی مضبوطی کے لیے مدد کرتا ہے.

یونسی نے کہا کہ ایران دونوں ممالک کے درمیان اساتذہ اور طالب علموں کے تبادلے اور مشترکہ پر خیر مقدم کر رہا ہے.

ایرانی سفیر نے بھی تہران اور ماسکو کے اچھے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ برسوں کے دوران دونوں ممالک اقتصادی حجم کی شرح میں 70 فی صد اضافہ دیکھنے میں آئی ہے اور اس کے علاوہ سائنسی، تعلیمی شعبوں میں بھی نمایان کامیابیاں حاصل ہوئی ہے.

9410*272**