موصل 1122 دن بعد آزاد ہوگیا/عراقی وزیراعظم کے باضابطہ بیان کا انتظار

بغداد - ارنا - ارنا نیوز ایجنسی کے ذرائع کے مطابق، عراقی شہر 'موصل' کے قدیمی علاقوں میں قائم داعش کے ٹھکانوں اور مورچوں کو تباہ کرنے کے بعد عراقی سیکورٹی فورسز نے شہر کا مکمل کنٹرول حاصل کرلیا ہے اور موصل کی 1122 دن بعد کی آزادی کا اعلان عراقی وزیراعظم 'حیدر العبادی' کچھ دیر بعد اپنے باضابطہ بیان میں کریں گے.

تفصیلات کے مطابق، موصل کے قدیمی علاقوں کی گلی اور سڑکوں پر داعش کے کارندوں کے قبضے کو ختم کرنے کے ساتھ اس شہر میں اب خاموشی آگئی ہے اور کچھ گھنٹون سے فائرنگ یا گولہ باری کی آوازیں بند ہوگئیں.

ارنا کے ذرائع نے بتایا کہ موصل آپریشن کے کمانڈر وزیراعظم حیدر العبادی کی جانب سے آپریشن کے خاتمے کا اعلان کرنے کا انتظار کررہے ہیں اور توقع کی جارہی کہ کچھ گھنتوں تک عراقی وزیراعظم موصل کی مکلم آزادی کا اعلان کریں گے.

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ عراقی وزیراعظم موصل کا دورہ کریں گے اور یہاں سے اس شہر کی مکمل آزادی کا باضابطہ اعلان کیا جائے گا.

واضح رہے کہ عراقی سیکورٹی فورسز نے جمعرات کے روز 'موصل' کے قدیمی علاقوں بالخصوص تاریخی مساجد النوری اور الحدبا پر جہاں داعش کے سرغنہ ابوبکر البغدادی نے اپنی نام نہاد خلافت کا اعلان کیا تھا، مکمل کنٹرول حاصل کرلیا.

عراق کے قومی ٹیلی ویژن کے مطابق، سیکورٹی فورسز نے داعش کے اصل گڑھ پر کنٹرول حاصل کرلیا جہاں داعش دہشتگردوں کے سرغنہ ابوبکر البغدادی نے 7 جون 2014 میں یہاں سے عراق پر اپنی نام نہاد خلافت کا اعلان کیا تھا.

واضح رہے کہ عراق میں داعش دہشتگردوں کی سرگرمیوں کے آغاز سے یہ عناصر تاریخی مسجد النوری اور اس سے ملحقہ علاقوں کو اپنے قبضے میں رکھنے کے لئے بڑی مزاحمت دیکھائی.

گزشتہ دنوں داعش کے دہشتگردوں نے موصل کی تاریخی ’النوری مسجد‘ اور اس کے جھکے ہوئے مینار کو شہید کیا جہاں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی پہلی اور آخری بار منظر عام پر آیا تھا.

عراقی حکومت نے 17 اکتوبر 2016 میں داعش کے زیر قبضہ موصل کا کنٹرول حاصل کرنے کے لیے جنگ کا اعلان کردیا تھا.

٢٧٤**