ٹرمپ کے آنے سے آل سعود اور آل خلیفہ کے مظالم میں اضافہ ہوگیا ہے: تہران امام جمعہ

تہران - ارنا - ایرانی دارالحکومت کے امام جمعہ نے خطے کے مظلوم عوام بالخصوص یمنی قوم پر بدترین اقتصادی اور فوجی دباو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ کے آنے سے امریکی، آل سعود اور آل خلیفہ کے مظالم میں اضافہ ہوگیا ہے.

یہ بات علامہ 'کاظم صدیقی' نے آج تہران میں نماز جمعہ کے دوسرے خطے کے دوران ایک عظیم اجتماع میں نمازیوں سے خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ آل خلیفہ اور آل سعود نے ڈونلڈ ٹرمپ کے آنے سے اپنے جرائم اور مظالم کے تلواروں کو مزید تیز کردیا جن پر ہم لعنت بھیجتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ آج یمنی عوام بدترین اقتصادی اور فوجی دباو میں نظر آتے ہیں اور ان کا جینا محال کردیا گیا ہے، وہاں قتل عام اور افراتفری ہے مگر انسانیت خاموش اور نام نہاد انسانی حقوق کے اداروں کی آنکھیں بند ہیں.

تہران کے امام جمعہ نے کہا کہ ہم یمنی اور بحرینی عوام کی نجات کے لئے دعاگو ہیں، یقینا ان مظلوم عوام پر مظالم ڈھانے والوں کے انسانی حقوق کی بنیاد انسانیت کا قتل اور مظلوموں کی زندگی چھینا ہے.

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں سعودی عرب کے اندرونی حالات سے یقنی طور پر کچھ آگاھی نہیں جبکہ آل سعود کے جابر حکمران امریکہ کے ساتھ مل کر شیعہ آبادیوں کے خلاف جرائم کے مرتکب ہورہے ہیں.

علامہ کاظم صدیقی نے بتایا کہ سوائے جمہوریہ آذربائیجان کہ کوئی ملک ایسا نہیں جہاں شہریوں کو مذہبی آزادی حاصل نہ ہو اور گھروں پر بھی قرآنی تعلیمات پر قدغن ہو، حالانکہ ایک کافر ملک میں بھی ایسا سلوک نہیں کیا جاتا جو جمہوریہ آذربائیجان میں کیا جارہا ہے مگر عالمی نام نہاد انسانی حقوق کے ادارے اس حوالے سے چپ کا روزہ رکھے ہوئے ہیں اور ایسی صورتحال کا نوٹس نہیں لیتے.

انہوں نے مزید کہا کہ جیسا کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای نے عدلیہ کو ہدایت دی، ایرانی عدلیہ دنیا کے مظلوموں کے لئے قانونی اور عدالتی چارہ اختیار کرے، نائیجیریا کے مظلوم مذہبی رہنما اور 6 شہید بیٹوں کے والد شیخ ابراہیم زاکزاکی اور آذربائیجان میں قید علمائے دین، سوال یہ ہے کہ یہ علما کیوں قید و بند کے شکار ہیں؟

تہران کے امام جمعہ نے اس بات پر زور دیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کو مظلموں کی آواز بن کر دنیا کے سامنے ان کی مظلومیت کی آواز پہنچانا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ توقع کی جاتی ہے کہ عدلیہ اپنی پوزیشن کو مضبوط کرکے قائد اسلامی انقلاب آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے دی گئی ہدایات کے اس حوالے سے عملی اقدامات اٹھائے.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ عدلیہ کے موجودہ سربراہ ایک عادل اور عالم دین ہیں جن کی تعیناتی ملک کے اعلی سربراہ یعنی کہ سپریم لیڈر کی جانب سے کی گئی ہے لہذا توقع کی جاتی ہے کہ یہ ادارہ اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنے کے ساتھ ساتھ سپریم لیڈر کی ہدایات پر عمل کرنے کے لئے موثر اقداماے اٹھائے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی عدلیہ ایک مضبوط قانونی ادارہ ہے جس کی اصل ترجیحات عوام کو انصاف کی فوری فراہمی، معاشرے میں سلامتی کی بحالی، قانون توڑنے والوں کا مقابلہ اور سماجی مشکلات کا خاتمہ ہیں لہذا عدلیہ کے پاس قانونی اختیارات ہونے سے اس کا ہاتھ مسائل پر قابو پانے کے لئے کھلا ہے.

٢٧٤**