ایران، پڑوسی ممالک بشمول بھارت کو گیس برآمد کرنے کیلئے پُرعزم، یورپ ترجیح نہیں

تہران - ارنا - نائب ایرانی وزیر تیل نے کہا ہے کہ یورپ کو گیس برآمد کرنا ہماری پہلی ترجیح نہیں بلکہ پڑوسی ممالک بشمول بھارت کو گیس برآمد کرنا ہمارے منصوبے میں شامل ہے.

یہ بات نائب ایرانی وزیر پٹرولیم برائے کمرشل اور بین الاقوامی امور 'امیرحسین زمانی نیا' نے جمعہ کے روز ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ یورپ کی توانائی منڈی ہماری ترجیح نہیں کیونکہ یورپی ممالک اس وقت اپنی ضرورت سے بڑھ کر گیس خرید رہے ہیں.

انہوں ںے مزید کہا کہ قدرتی گیس ذخایر کے حوالے سے ایران دنیا میں دوسرے نمبر پر ہے اور ہم پہلے یورپی ممالک کو گیس برآمد کرنے کے لئے منصوبہ بندی کررہے تھے مگر اب یورپ اپنی ضرورت سے بڑھ کر گیس وصول کر رہاہے لہذا اب یورپی ہماری ترجیح میں نہیں ہے.

نائب ایرانی وزیر تیل نے کہا کہ جوہری معاہدے کے نفاذ اور پابندیوں کے خاتمے سے ایران کی توانائی سفارتکاری کو فروغ ملا ہے جس کی وجہ سے ہماری گیس برآمدات میں بھی اضافہ ہوگا.

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے گزشتہ ہفتے سمندری گیس ذخائر کے فروغ کے لئے فرانسیسی کمپنی ٹوٹل کی قیادت میں ایک بین الاقوامی کنسورشیم کے ساتھ 4.8 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کردئے.

17 جنوری 2016 سے ایران مخالف عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد یہ کسی بھی مغربی کمپنی کی ایرانی توانائی شعبے میں پہلی سرمایہ کاری ہے.

اس معاہدے کے مطابق، فرانس کی ٹوٹل اور ایران کی قومی کمپنی پیٹروپارس ایران کے جنوبی ساحلی علاقے میں واقع پارس جنوبی کے 11ویں فیز اور گیس ذخائر کے فروغ کے لئے مشترکہ تعاون کریں گی.

ایران کے توانائی شعبے میں ہونے والی 4.8 ارب ڈالر سرمایہ کاری میں ٹوٹل کمپنی کی سرمایہ کاری کی سطح اور معاہدے کی مجموعی نوعیت نہایت اہم ہے.

٢٧٤**