عراقی صدر کی اندرونی معاملات میں ایرانی مداخلت کی تردید

تہران - ارنا - عراق کے صدر مملکت 'فواد معصوم' نے اسلامی جمہوریہ ایران کے ساتھ قریبی تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے ایران کے خلاف عراق کے اندرونی معاملات میں مداخلت کے الزام کو مسترد کردیا.

صدر فواد معصوم نے سعودی اخبار 'عکاظ' کو خصوصی انٹریو دیتے ہوئے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان 1300 کلومیٹر طویل سرحدیں ہیں اور ہمارے ایران کے ساتھ تعلقات اچھے ہیں.

انہوں نے کہا کہ عراقی صوبے موصل میں داعش کے خلاگ جنگ کے آغاز سے ایران نے عسکری معاونت اور انسانی ہمدردی کی بنیاد پر مدد فراہم کی ہے.

عراقی صدر نے روزنامہ عکاظ کے صحافی جمیل الزیابی کے ایران کے خلاف دعووں کے جواب میں کہا کہ جمیل صاحب، ہمارے اندرونی معاملات میں ایران کی مبینہ مداخلت کے کوئی شواہد نہیں اور نہ ہی ہمارے دوسروں سے تعلقات مفروضوں اور میڈیا رپورٹس کی بنیاد پر ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ ہم ایران کے دشمن نہیں بن سکتے بلکہ تمام ممالک کے ساتھ اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں.

عراقی صدر نے ملک میں عوامی رضاکارانہ فورس (الحشد الشعبی) کی موجودگی کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ الحشد الشعبی عراق کے لئے ضروری ہے کیونکہ ہمارا ملک کے مختلف علاقے دہشتگردوں کے ممکنہ حملوں کے خطروں کا سامنا کررہے ہیں.

٢٧٤**