ایرانی اسپیکر کا ملک میں مزاحمتی اقتصاد پالیسی کے نفاذ کیلئے حکومت اور پارلیمنٹ کے تعاون پر زور

رشت - ارنا - ایران کے اسپیکر نے سیاسی تناؤ سے دوری کو ملک کی ترقی کے لئے اہم قرار دیتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ مزاحمتی اقتصادی پالیسی کے نفاذ کے لئے حکومت اور پارلیمنٹ کو قریبی تعاون کرنا ہوگا.

یہ بات 'علی لاریجانی' نے جمعرات کے روز ایران کے شمالی شہر 'رشت' کے دورے کے موقع پر سپریم لیڈر کے نمائندہ آیت اللہ زین العابدین قربانی کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے ملک میں جماعت اور سیاسی حلقوں کے درمیان تناو اور کشیدگی کے خاتمے پر زور دیا اور کہا کہ سیاسی حلقوں کے درمیان عدم تناؤ سے ملک کی ترقی کے لئے مدد ملے گی.

سپریم لیڈر حضرت آیت اللہ خامنہ ای کی جانب سے رواں ایرانی سال کو مزاحمتی اقتصاد؛ قومی پیداوار اور روزگار کے سال قرار دینے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے اس بات پر زور دیا جب تک عوام کی اقتصادی صورتحال میں بنیادی تبدیلی نہ لائی جائے تو معاشی مشکلات کا حل بھی ممکن نہ ہوگا.

انہوں نے پارلیمنٹ اور حکومت کے درمیان موجودہ تعمیری تعاون کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ حکومت کی کابینہ میں ایسے ماہر اور سنجیدہ افراد کو لانے کی ضرورت ہے جن کا مقصد ملک کو مزید ترقی اور خوشحالی کی طرف لے جانا ہو.

٢٧٤**