ایران، ارمینیا اور یوریشیا تنظیم کے درمیان اقتصادی تعاون پر مذاکرات کا انعقاد

ماسکو - ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران، ارمینیا اور یوریشیا تنظیم کے درمیان ایک مشترکہ اجلاس کا انعقاد کیا گیا جس میں مختلف شعبوں میں باہمی تعاون کے فروغ اور تہران،یوریشیا ترجیحی معاہدے کا جائزہ لیا گیا.

تفصیلات کے مطابق، اس نشست میں ارمینیا کے نائب وزیراعظم 'واچے گابریلیان'، نائب ایرانی وزیر صنعت و تجارت 'مجتبی خسروتاج' اور یوریشیا تنظیم کے وفد کی سربراہ 'ویرونیکا نیکشینا' شریک تھے.

اس موقع میں ایران اور یورشیا یونین وفد کے سربراہوں 'خسرو تاج' اور 'ورونیکا نیکیشینا' نے باہمی تعاون بڑھانے کے لئے اپنی کامیاب رپورٹوں کو پیش کیا.

گابریلیان نے ایران اور یوریشیا اقتصادی یونین کے درمیان ترجیحی ٹیرف کے تین سالہ معاہدے اور باہمی صلاحیتوں کو متعارف کرانے کے لیے اس معاہدے کے مثبت اثرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس طی شدہ معاہدے میں نہ صرف کوئی پریشانی کی بات نہیں بلکہ مستقبل میں یہ معاہدہ، باہمی تعلقات کی توسیع کے لیے اچھے مواقع میسر کرے گا.

آرمینیایی عہدیدار نے تجارتی تعلقات کی توسیع کے لیے ایران اور یوریشیا اقتصادی یونین کے درمیان موجودہ اقتصادی صلاحیتوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے اس امید کا اظہار کیا کہ مذاکرات کے اس مرحلے سے ترجیحی ٹیرف معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے مواقع فراہم ہو کیا جائے گا.

ایران اور یوریشیا یونین حکام کے دو روزہ مذاکرات، صنعت اور زراعت کے دو گروپ میں آج جاری کردیا جائے گا اور توقع کی جا رہی ہے کہ قریب مستقبل میں ایران اور یوریشیا یونین کے ترجیحی معاہدے کو حتمی شکل دینے سے مصنوعات کے تبادلے کی سہولت، تجارتی تعلقات کے حجم میں اضافہ کرنے میں مدد ملے گی.

تفصیلات کے مطابق، خسرو تاج نے گزشتہ روز آرمینیا کے وزیر خزانہ، ترقی اور سرمایہ کاری 'سورن کارایان ' کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران دونوں ممالک کے درمیان یادداشت مفاہمتوں کے نفاذ کے لیے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا.

یاد رہے کہ گزشتہ ایرانی سال میں صدر حسن روحانی نے یریوان میں اپنے آرمینیائی ہم منصب کے ساتھ ملاقات کی جس سے دونوں ممالک کے تعلقات میں مزید بھتری آئی ہے.

يوريشيا شمالی ايشيايی ممالک کی ايک اقتصادی تنظيم ہے جس کے تحت رکن ممالک کے درميان آزاد تجارتی روابط قائم ہيں.

آرمينيا، بيلاروس، قازقستان، کرغزستان اور روس يوريشيا تنظیم کے ممبران ہیں.

9410*274**