پیرس معاہدہ، امریکہ کی علیحدگی سے کوئی سنگین نتائج برآمد نہیں ہوں گے: اقوام متحدہ

تہران - ارنا - اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل برائے امور ماحولیات نے کہا ہے کہ پیرس موسمیاتی تبدیلی معاہدے سے امریکہ کی علیحدگی سے کوئی نقصان نہیں ہوں گا جیسا کہ میڈیا تاثر دے رہا ہے.

یہ بات 'ایرک سلہمیم' نے ایران میں منعقدہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس اور ایران کے جنوبی شہر اہواز کے دورے کے موقع پر ارنا کے نمائندے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کہی.

انہوں نے کہا کہ پیرس معاہدے سے امریکی علیحدگی سے ایسا کوئی بڑا منفی اثر نہیں پڑے گا بلکہ اسلامی جمہوریہ ایران اور روس جیسے بڑے ممالک بشمول افریقی اور یورپی ممالک اس معاہدے پر قائم ہیں اور ان کے تعاون سے اس معاہدے کے جلد نفاذ کو یقینی بنایا جائے گا.

انہوں نے مزید کہا کہ میڈیا نے پیرس معاہدے سے امریکی علیحدگی کو بڑھا چڑھا کر پیش کیا جبکہ ایسا کچھ بھی نہیں اور امریکی علیحدگی سے کوئی بڑی مشکل سامنے نہیں آئے گی.

اقوام متحدہ کے ڈپٹی سیکرٹری جنرل نے کہا کہ ایپل، گوگل، مال وارٹ اور دیگر نامور امریکی کمپنیوں کے حکام نے اعلان کیا ہے کہ امریکی حکومت کے فیصلے ان کا کوئی تعلق نہیں اور وہ ماحولیاتی مسائل کو اہم سمجھتے ہوئے پیرس معاہدے پر پابند رہیں گے سبز معیشت کے مقاصد پانے کے لئے اپنے حصے کا کردار ادا کریں گے.

اس موقع پر انہوں نے اپنے دورہ ایران اور ملک میں موجود ماحولیاتی آلودگی کے مسائل کے حوالے سے کہا کہ اہواز شہر اور خوزستان صوبے میں آلودگی اور گرد کے طوفان کے حوالے سے سوشل میڈیا میں تصاویر آنے کے بعد ایران کا دورہ کرنے میں دلچسپی آئی جس کا مقصد اس مسئلے کے خاتمے کے لئے حکمت عملی بنانا ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ان کا اہواز آنے کا اصل مقصد ماحولیاتی آلودگی کی خاطر سماجی اور عوامی مشکلات کو قریب سے دیکھنا اور اس حوالے سے تعاون فراہم کرنا ہے.

اقوام متحدہ کے نائب سربراہ نے بتایا کہ ایران میں گزشتہ دنوں منعقد ہونے والی عالمی انسداد ماحولیاتی آلودگی کانفرنس کے موقع پر خطی ممالک بالخصوص ایران کے ہمسایہ ملک ترکی اور عراق کے ساتھ بات چیت ہوئی اور گرد طوفانوں کے مسئلے کو بھی اٹھایا گیا.

انہوں نے کہا کہ گرد طوفانوں اور آلودگی سے نمٹنے کے لئے تین حکمت عملی پر کام کرنا ہوگا، سب سے پہلے اہواز میں آلودگی کا خاتمہ اہم ترجیح ہوگی اور اس مقصد کے لئے جھیل کے قیام اور جنگلات میں اضافے کی ضرورت ہے، دوسرے مرحلے میں شام، عراق، ترکی اور سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کرنے ہوں گے اور تیسرے مرحلے میں اقوام متحدہ اپنے وسائل کو بروئے کار لائے گی.

ایرک سلہمیم نے مزید کہا کہ گرد طوفان اور آلودگی کا مقابلہ کرنے کے حوالے سے ایک بین الاقوامی مرکز کا قیام عمل میں لایا جائے گا اور اس حوالے سے ایران کو مرکزی کردار حاصل ہوگا.

٢٧٤**