داعش کیخلاف پاسداران انقلاب کی کاروائی، ایرانی اراکین مجلس کی بھرپور حمایت

تہران - ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کی مجلس (پارلیمنٹ) کے 162 اراکین نے بدھ کے روز ایک متفقہ طور پر پیش کی جانے والی قرارداد میں پاسداران انقلاب کی جانب سے تہران کے حالیہ حملوں کے جواب میں داعش کے دہشتگردوں کے خیلاف میزائل کاروائی کی بھرپور حمایت کا اعلان کردیا.

پارلیمنٹ بورڈ کے ممبر 'محمد حسین فرہنگی' نے ایرانی اراکین پارلیمنٹ کی متفقہ قرارداد کو پڑھ کر سنایا.

ایرانی اراکین پارلیمنٹ نے اس قرارداد میں عالمی امن و سلامتی کی حمایت کرتے ہوئے خطے میں ناامنی پھیلانے اور دہشتگردوں کی پشت پناہی کرنے پر امریکہ اور اس کے اتحادی ممالک کے منفی اقدامات کی شدید مذمت کی.

اس قرارداد میں کہا گیا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کی عزت اور وقار ایرانی قوم کی سامراجی قوتوں کے خلاف 36 سال سے جاری مزاحمت کا ثمر ہے.

اس قرارداد میں مزید کہا گیا کہ ایران کے تمام حکام اور اداروں کو سپاہ پاسداران اسلامی انقلاب کے مجاہدین کی اس بہادرانہ کاروائی کی حمایت کرنی چاہئے جس کا مقصد ایران دشمن عناصر کی شیطانی سازشوں کو بے نقاب کرنا تھا.

اس متفقہ قرارداد پر 162 ایرانی اراکین مجلس نے دستخط کئے.

یاد رہے کہ 7 جون کو داعش کے سفاک دہشتگردوں کی جانب سے تہران میں پارلیمنٹ اور امام خمینی (رح) کے مقدس مزار پر حملوں کے بعد ایرانی سیکورٹی فورسز نے جوابی ردعمل میں ملک کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر آپریشن شروع کیا جس کے نتیجے متعدد دہشتگرد گروپ تباہ اور درجنوں دہشتگرد اور سہولت کار گرفتار ہوئے.

ایرانی مجلس اور امام خمینی (رح) کے مزار پر دہشتگردی کے حملوں کے نتیجے میں 18 روزہ دار شہید اور 56 افراد زخمی ہوگئے.

اس کے بعد سپاہ پاسداران اسلامی انقلاب (IRGC) نے تہران حملوں کے جوابی ردعمل میں شام کے علاقے دیر الزور میں قائم داعش کے تکفیری اور دہشتگردوں کے کمانڈ اینڈ کنٹرول کو میزائلوں سے نشانہ بنایا.

پاسداران انقلاب کے مطابق، کرمانشاہ اور کردستان میں موجود آئی آر جی سی ایرواسپیس بیس سے شام میں قائم دہشتگردوں کے مراکز پر درمیانے سطح اور زمین سے زمین پر مار کرنے والے میزائل داغے گئے جس کے نتیجے میں دہشتگردوں کو سنگین نقصان پہنچا.

اس کاروائی میں 170 سے زائد دہشتگرد ہلاک اور ان کے جنگی آلات، تنصیبات اور اسلحہ ڈپو بھی مکمل تباہ ہوگیا ہے.

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے مزید کہا کہ اس کاروائی کا مقصد اور پیغام واضح ہے، ہم دہشتگردوں اور ان کے علاقائی اور بیرونی حواری اور حامیوں کو انتباہ کرتے ہیں کہ اگر ایرانی قوم کے خلاف ایسے سفاکانہ اور شیطانی اقدامات دہرائے گئے تو آئندہ ہمارا ردعمل مزید سخت اور تباہ کن ہوگا.

٢٧٤**