لبنان میں چار مغوی ایرانی سفارتکاروں کی شہادت کا کوئی ثبوت نہیں: ایرانی عہدیدار

تہران - ارنا - ایران کی بین الاقوامی فلسطین انتفاضہ کانفرنس کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے کہ 1982 کو لبنان سے اغوا ہونے والے چار ایرانی سفارتکار صہیونی جیلوں میں ہیں اور ان کی شہادت کے حوالے سے کوئی مصدقہ ثبوت نہیں ہے.

'حسین امیرعبداللھیان' نے گزشتہ روز اپنے ٹیلی گرام پیج پر مزید کہا کہ اقوام متحدہ اور بین الاقوامی ریڈ کراس کی جانب سے چار ایرانی سفارتکار سید محسن موسوی، احمد متوسلیان، کاظم اخوان اور تقی رستگار کی بازیابی کے لئے کوششیں جاری ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی پارلیمنٹ بھی مغوی سفارتکاروں کا سراغ اور ان کی آزادی کے لئے نئے اقدامات اٹھائے گی.

واضح رہے کہ پانچ جولائی 1982 میں چار ایرانی سفارتکار جن میں بریگیڈیر جنرل احمد متوسلیان، سید محسن موسوی، تقی رستگار مقدم و کاظم اخوان (ارنا نیوز ایجنسی کے فوٹو جرنلیسٹ) شامل تھے، لبنانی دارالحکومت بیروت میں ایرانی سفارتخانے کی گاڑی پر شام جارہے تھے جن کی گاڑی صہیونی عناصر کی جانب سے غیرقانونی طور پر روکی گئی جس کے بعد ایرانی سفارتکاروں کو اغواء کیا گیا.

٢٧٤**