عراق میں استحکام اور اتحاد کی حمایت جاری رکھیں گے: ایرانی صدر

تہران - ارنا - ایران کے صدر نے داعش کے دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں کامیابی بالخصوص موصل کی آزادی پر عراقی قوم، حکومت، مسلح افواج عوامی رضاکارانہ فورسز کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران، عراق میں استحکام اور اتحاد کی حمایت جاری رکھے گا.

ان خیالات کا اظہار صدر مملکت ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے منگل کے روز تہران میں ایران کی قومی اتحاد جماعت کے سربراہ 'سید عمار حکیم' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ موصل کی آزادی کے بعد عراقی حکمرانوں کی سنجیدگی اور اس ملک میں تمام فریقین کے درمیان وحدت اور یکجہتی کے ساتھ عراقی قوم کی فتوحات کا سلسلہ جاری رہے گا.

انہوں نے کہا کہ عراق میں حالیہ تبدیلیوں سے ایران اور عراق دونوں کو فائدہ ملے گا بالخصوص داعش کی شکست اور موصل کی آزادی سے عراق میں قیام امن و سلامتی کی پوزیشن مزید مضبوط ہوگی.

صدر روحانی نے کہا کہ تہران اور بغداد کے درمیان تعلقات کا فروغ دونوں ممالک کے عوام کی خواہش ہے جس میں باہمی مفادات کے حصول کے لئے راہ ہموار ہوگی.

انہوں نے کہا کہ علاقائی ممالک بالخصوص دوست ملک عراق کے ساتھ تعلقات کو فروغ دینا اسلامی جمہوریہ ایران کی اہم ترجیح ہے.

ایرانی صدر نے کہا کہ ہم ایک مستحکم اور متحد عراق کی حمایت جاری رکھیں گے مگر جو عراق میں انتشار اور تقسیم کی باتوں سے کسی کو فائدہ نہیں ہوگا اور نہ ہی قابل قبول ہے.

سنئیر عراقی رہنما سید عمار حکیم نے بھی اس ملاقات میں کہا کہ موصل کی آزادی سے عراق کی قومی وحدت اور یکجہتی مزید مضبوط ہوئی ہے.

انہوں نے عراقی قوم اور حکومت کو دہشتگردوں کے خلاف جنگ میں مدد فراہم کرنے پر اسلامی جمہوریہ ایران کا شکریہ ادا کیا اور کہا ہے کہ عراق، ایران کے ساتھ کثیرالجہتی تعلقات کی توسیع کا خواہاں ہے.

واضح رہے کہ عراقی سیکورٹی فورسز نے گزشتہ ہفتے 'موصل' کے قدیمی علاقوں بالخصوص تاریخی مساجد النوری اور الحدبا پر جہاں داعش کے سرغنہ ابوبکر البغدادی نے اپنی نام نہاد خلافت کا اعلان کیا تھا، مکمل کنٹرول حاصل کرلیا.

عراق کے قومی ٹیلی ویژن کے مطابق، سیکورٹی فورسز نے داعش کے اصل گڑھ پر کنٹرول حاصل کرلیا جہاں داعش دہشتگردوں کے سرغنہ ابوبکر البغدادی نے جون 2014 میں یہاں سے عراق پر اپنی نام نہاد خلافت کا اعلان کیا تھا.

یاد رہے کہ عراق میں داعش دہشتگردوں کی سرگرمیوں کے آغاز سے یہ عناصر تاریخی مسجد النوری اور اس سے ملحقہ علاقوں کو اپنے قبضے میں رکھنے کے لئے بڑی مزاحمت دیکھائی.

گزشتہ ہفتوں میں داعش کے دہشتگردوں نے موصل کی تاریخی 'النوری مسجد' اور اس کے جھکے ہوئے مینار کو شہید کیا جہاں داعش کے سربراہ ابوبکر البغدادی پہلی اور آخری بار منظر عام پر آیا تھا.

٢٧٤**