آستانہ میں شام امن مذاکرات کے پانچویں دور کا آغاز، قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر غور

ماسکو - ارنا - قازقستان کے دارالحکومت 'آستانہ' میں آج بروز منگل ایران، روس اور ترکی کے وفود کی موجودگی میں شامی حکومت اور مسلح مخالفین کے نمائندوں کے درمیان امن مذاکرات کے پانچویں دور کا آغاز ہوگیا.

روسی خبرساں ادارے کے مطابق قازستان کے وزیر خارجہ 'غیرت عبدالرحمانف' نے کہا کہ نائب ایرانی وزیر خارجہ برائے عرب اور افریقی امور 'حسین جابری انصاری' کی قیادت میں ایرانی وفد اور روسی صدر کے خصوصی نمائندہ برائے شامی امور 'الکساندر لاورنتیف' کی قیادت میں روسی وفد آستانہ میں ہونے والی مختلف نشستوں میں شریک ہیں.

آستانہ میں ایک عہدیدار نے کہا کہ منعقدہ پانچویں مذاکرات میں اسلامی جمہوریہ ایران، روس اور ترکی شام ميں امن زون کے قيام کے حوالے سے اقدامات کا ذکر کرکے اور اس علاقے کی حدود مقرر کرتے ہیں.

انہوں نے مزید کہا کہ اس تین ممالک کے نمائندوں شام میں امن زون کی حدود مقرر اور اس کے متعلقہ معاہدے میں لکھیں گے.

روسی خبر رساں ادارے کے مطابق قازقستان کے دارالحکومت آستانہ میں منعقدہ شامی امن مذاکرات کے پانچویں دور میں قیدیوں کے تبادلے کے معاہدے پر تبادلہ خیال کیا جائے گا.

تفصیلات کے مطابق شرکت کرنے والے وفود آج بروز منگل آستانہ میں شام کی تازہ تریں صورتحال کے حوالے سے دوفریقی اجلاس اور کل بروز بدھ تمام وفود کے درمیان عام اجلاس کا انعقاد کیا جائے گا.

ياد رہے کہ 4 مئی کو قازقستان کے دارالحکومت 'آستانہ' ميں اسلامی جمہوريہ ايران، روس اور ترکی کی باہمی مشاورت سے شام امن مذاکرات کے چوتھے دور ميں تینوں ممالک کے سنئير سفارتکاروں کے علاوہ اقوام متحدہ کے ايلچی برائے امور شام، امريکہ اور اردنی کے نگران وفود کی موجودگی ميں شام ميں امن زون کے قيام کے معاہدے پر دستخط کئے گئے جن ميں ادلب، شمالی حمص، مشرقی غوطہ اور جنوبی شام کو امن زون قرار ديا گيا.

اس معاہدے کے تحت يہ تينوں ممالک شام ميں ان چار امن زون کے قيام کے مقصد سے داعش اور النصرہ فرنٹ سميت تمام دہشتگرد گروپوں کے خلاف جنگ کے ليے ضروری اور موثر اقدامات اٹھائيں گے.

اس معاہدے ميں شامی سرکاری فورسز اور مخالف فوج کے درميان تمام فوجی کارروائيوں کی روک تھام، شامی شہريوں کو آسانی سے انسانی اور طبی امداد تک رسائی، بنيادی ڈھانچے کی تعمير نو اور پناہ گزينوں کی واپسی پر زور ديا گيا ہے.

اس نشست کے دوسرے اہم مقاصد میں سيکورٹی بيلٹ کی تشکيل کا قيام فوجی واقعات کو روکنے کے لئے بالخصوص تنازعہ جماعتوں کے درميان فوجی جھڑپوں کو دور کرنا اور جنگ بندی کی نگرانی کے لئے سرحدی چوکيوں اور جانچ پڑتال کے اسٹيشنوں کا جائزہ لينا ہے.

9393*274**