خطی ممالک ماحولیاتی آلودگی کا مقابلہ کرنے کیلئے باہمی تعاون کو فروغ دیں: پاکستانی مندوب

تہران - ارنا - ایران میں منعقدہ عالمی ماحولیاتی کانفرنس میں شریک پاکستانی مندوب نے اس کانفرنس کے انعقاد پر اسلامی جمہوریہ ایران کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے علاقائی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ماحولیاتی آلودگی کی روک تھام کے لئے آپس میں تعاون کو فروغ دیں.

یہ بات پاکستانی محکمہ موسمیاتی تبدیلی کے ڈائریکٹر جنرل برائے ماحولیاتی امور 'محمد عرفان طارق' نے منگل کے روز تہران میں منعقدہ بین الاقوامی انسداد ماحولیاتی آلودگی کی کانفرنس کے موقع پر ارنا کے نمائندے کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ منعقدہ کانفرنس انسداد ماحولیاتی آلودگی کے حوالے سے عالمی برادری کے لئے ایک سنہری موقع فراہم کرتا ہے.

عرفان طارق نے کہا کہ مشرق وسطی میں بارش کی کمی کی وجہ سے علاقائی ممالک ماحولیاتی آلودگی اور پانی کی کمی کے مسئلے کا شکار ہیں اور سالانہ موسمی تبدیلی، بارش کی کمی اور بڑھتی ہوئی درجہ حرارت کے ساتھ طوفانوں کی شدت میں اضافہ کا باعث بن رہا ہے.

پاکستانی عہدیدار نے ان طوفانوں کے سنگین ماحولیاتی نقصاں کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بڑھتی ہوئی ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے بڑے اقتصادی، زرعی مصنوعات اور سماجی مسائل کا شکار ہے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ماحولیاتی آلودگی تمام علاقا‏ئی ممالک کے لئے ضرر رساں ہوجائے گا اسی لئے ایسے مسائل کے حل کے لئے سنجیدہ اقدامات ناگزیر ہے.

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی منعقدہ کانفرنس کی میزبانی کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا کے تمام ممالک کو اقوام متحدہ کے ساتھ اس مسائل کے حل کے لئے باہمی تعاون کرنا چاہیئے.

انہوں نے مزید کہا کہ تہران میں واقع اقتصادی تعاون تنظیم اس حوالے سے تعمیری کردار ادا کرسکتا اور اس تنظیم کی جانب سے تعلیمی ورکشاپ کا انعقاد ان کا ایک سنجیدہ اقدام ہے.

تفصیلات کے مطابق، ایرانی دارالحکومت 'تہران' میں بین الاقوامی انسداد ماحولیاتی آلودگی کی کانفرنس کا پیر کے روز سے آغاز اور تین دن تک جاری ہو گی جس میں 43 ممالک کے وزرا اور اعلی نمائندے شریک ہیں.

یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ماحولیاتی آلودگی کا مقابلہ اور گرد کے طوفانوں کے مسئلے پر توجہ دینے کے حوالے سے اہم اقدامات کر رہا ہے

مٹی اور گرد کے طوفانوں سے دنیا کے مختلف علاقے متاثر ہورہے ہیں اس لئے ایران میں ہونے والی آئندہ کانفرنس میں دنیا کے مختلف ممالک کے نمائندے شریک ہیں.

گزشتہ سال اقوام متحدہ میں ماحولیاتی آلودگی کا مقابلہ کرنے کے لئے چار قراردادیں پاس کی گئیں جن میں ایران نے بھی اہم کردار ادا کیا.

مختلف ممالک بشمول اٹلی، فرانس، جرمنی، چین، جمہوریہ آذربائیجان، بیلجئیم، قطر، سلطنت عمان، کویت، پاکستان، ارمینیا، عراق، چاڈ، ترکی، بھارت، اردن، جنوبی کوریا، اسلووکیا، سربیا اور امریکہ کے مندوبین اس کانفرنس میں موجود ہیں.

تین روزہ بین الاقوامی کانفرنس میں انسداد ماحولیاتی آلودگی کےلئے علاقائی اور بین الاقوامی تعاون کا جائزہ لیا جائے گا.

کانفرنس کے افتتاحی اجلاس کے بعد ماہرین اور وزرا کی سطح پہ نشستوں کا انعقاد کیا جائے گا اور اس کے علاوہ چار تکنیکی نشستیں بھی ہوں گی.

9393*274**