عراق میں داعش کیخلاف فتح میں آیت اللہ سیستانی کا اہم کردار ہے: ایرانی اسپیکر

تہران - ارنا - ایرانی مجلس (پارلیمنٹ) کے اسپیکر نے کہا ہے کہ عراق میں موصل کی آزادی اور داعش کے دہشتگردوں کے خلاف حالیہ فتح کے حوالے سے مذہبی راہنما حضرت آیت اللہ العظمی 'سید علی سیستانی' کا اہم اور تعمیری کردار ہے.

ان خیالات کا اظہار 'علی لاریجانی' نے منگل کے روز ایران کے دورے پر آئے ہوئے عراق کی اعلی مجلس کے سربراہ 'سید عمار حکیم' کے ساتھ ایک ملاقات کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے اپنے عراقی ہم منصب، قوم اور حکومت کو عراق کی کامیابی پر مبارکباد پیش کرتے ہوئے کہا کہ تمام بحرانوں کے حل کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران عراق کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑا ہوگا.

لاریجانی نے کہا کہ عراق علاقے میں اہم کردار ادا کرتا ہے اور عراقی قوم کو اس ملک کی تقسیم کی اجازت نہیں دینی چاہیئے کیونکہ یہ اقدام ناجائز صہیونی ریاست کے لئے فائدہ مند ہوگا.

انہوں نے مزید کہا کہ عراق میں داعش دہشتگردوں کی ناکامی کے باوجود دوسرے بحرانوں کے حل کے لئے اس ملک کے بھرپور ہوشیاری ناگزیر ہے.

ایرانی اسپیکر نے دونوں ممالک کے درمیان تجارتی تعلقات کو اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اور عراق کے درمیان تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے لئے متعدد مواقع موجود ہے جو بینکاری رکاٹوں کو دور کرنا ان میں سے ایک ہے.

عمار حکیم نے کہا کہ ہم ہمیشہ اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ اگر عراق اور شام میں داعش دہشتگردوں کے خلاف جنگ نہیں لڑیں تو دنیا کے تمام ممالک ان کی سازشوں کا شکار ہوں گے.

انہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے داعش کے خلاف جنگ میں عراق اور علاقائی ممالک کی حمایت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ موصل کی حالیہ کامیابیوں کی وجہ ایران اور عراق کے درمیان باہمی تعاون اور اتحاد ہے.

عراقی اسپیکر نے کہا کہ داعش دہشتگردوں کا مقصد انقلابی فوجیوں کا خاتمہ ہے مگر شکار ہونے والے ممالک اپنے دفاع کے لئے مزاحمت کرسکے.

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی صورتحال میں عراق کے تمام حصوں میں عوام جانتے ہیں کہ ایسے انتہا پسند گروپوں اسے کوئی مدد نہیں کرسکتے اور صرف باہمی اتحاد کے ذریعہ عراق ایک طاقتور ملک میں بن سکتا ہے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ابھی صورتحال میں داعش دہشتگردوں کی حمایت کرنے والے ممالک مختلف مسائل کا شکار ہیں کیونکہ ایسے ممالک میں کوئی بہادر عوامی فوج موجود نہیں ہے.

آیت اللہ حکیم نے کہا کہ جبکہ داعش عراق میں ناکام ہورہے ہیں مصر، لیبیا، یمن، افغانستان، پاکستان اور اردن میں سازش کرتے ہیں.

اعلی عراقی عہدیدار نے کہا کہ عراق کی سالمیت بہت اہم ہے اور اس ملک کی تقسیم نہ صرف عراقی قوم بلکہ تمام علاقائی ممالک کے لئے ضرر رساں ہوجائے گا اور تمام شیعی اور سنی بھائیوں کو باہمی اتحاد برقرار رکھنا چاہیئے.

انہون نے اس بات پر زور دیا کہ ناجائز صہیونی ریاست اپنے مفادات کے لئے ریفرنڈم کا انعقاد، عراق کی تقسیم اور عراقی قوم کے مابین تفرقہ ڈالنا چاہتا ہے.

عمار حکیم نے کہا کہ موصل کی آزادی کے بعد عراق کی موجودہ نئی صورتحال کے لئے ایک سنجیدہ منصوبہ بندی ضروری ہے اور اسلامی جمہوریہ ایران اس حوالے سے بڑی مدد کرسکتا ہے.

انہوں نے بتایا کہ داعش کی پوری ناکامی کے لئے عراق میں سیکورٹی حکمت عملی طاقتور ہونی چاہیئے اور خوش قسمتی سے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے عراق کی قومی مصالحتی کے پالیسی منصوبے کو منظور کردیا ہے.

9393*274**