ایران پائیدار زرعی ترقی کیلئے عالمی برادری کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہے

روم - ارنا - ایران کے وزیر جہاد زراعت نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران، پائیدار زراعت کی ترقی کے لئے عالمی برادری کے ساتھ تعاون بڑھانے پر آمادہ ہے.

یہ بات 'محمود حجتی' نے گزشتہ روز روم میں 'خشک سالی کے انتظام' کے عنوان سے منعقدہ اقوام متحدہ میں خوراک کی عالمی تنظیم (FAO) کی 40ویں عالمی کانفرنس میں خطاب کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران پائیدار زرعی ترقی کے لئے عالمی برادری اور علاقائی ممالک کے ساتھ تعاون کے لئے تیار ہے.

حجتی نے کہا کہ موسمی تبدیلی اور ایران کی جغرافیائی پوزیشن بالخصوص حالیہ دہائیوں کے خشک سالی سے متعلقہ تشویشات کی وجہ سے ہم پانی کی خصوصی پیداوار کے عوامل کو بہتر بنانا، عوامل پیداوار سے متعلقہ وسائل کی حفاظت کرنے کے لئے زراعت کی حکمت عملی کا نفاذ کرتے ہیں.

انہوں نے کہا کہ پانی وسائل کی بنیاد کی حفاظت کے لئے زمینی پانی کے ریچارج، واٹرشیڈ مینجمنٹ، مویشیوں کے لئے توازن چراگاہوں قائم، جنگلات کی حفاظت اور جڑی بوٹیوں ادویات کی پیداوار کی ترقی دینا نہایت اہم ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ زراعت کے شعبے میں پانی کے باکفایت استعمال کے لئے گرین ہاؤس کی کاشت کی ترقی کی حمایت کے منصوبے پر عملدرآمد کیا جائے گا جو اب تک ملک میں 11 ہزار ہیکٹر گرین ہاؤس قائم ہوگیا ہے.

ایرانی وزیر جہاد زراعت نے کہا کہ زرعی تحقیقات کو فروغ دینا، کسانوں کی تعلیم، نئے علم کی منتقلی کے لئے ایک نیا نظام کی تشکیل اور عوامی شرکت کو فروغ دینا اور مینوفیکچررز کی منظم حمایت پائیدار زراعت کی ترقی کی حکمت عملی میں سے ایک ہے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ہم عالمی برادری سے پانی اور خشک سالی سے متعلقہ نئی ٹیکنالوجی کی ترقی کے لئے بین الاقوامی باہمی تعاون کا مطالبہ کرتے ہیں.

تفصیلات کے مطابق روم میں 3 سے 8 جولائی تک 'خشک سالی کے انتظام' کے عنوان سے اقوام متحدہ میں خوراک کی عالمی تنظیم (FAO) کی 40ویں عالمی کانفرنس کا انعقاد ہورہا ہے جس کے دوران اس عالمی تنظیم کا نیا سربراہ منتخب کرلیا جائے گا.

منعقدہ عالمی کانفرنس میں اقوام متحدہ میں خوراک کی عالمی تنظیم (FAO) کے 194 رکن ممالک بالخصوص اسلامی جمہوریہ ایران نے شرکت کی ہیں.

واضح رہے کہ شرکت کرنے والوں منعقدہ کانفرنس میں علاقائی اہم موضوعات، خوراک اور زراعت کی صورتحال، پانی کی کمی، خاندان کاشتکاری، زرعی اور کھانے کی مصنوعات کی فضلے کی کمی پر تبادلہ خیال کریں گے.

9393*274**