ایرانی صدر، ٹوٹل کمپنی کے سربراہ کی ملاقات، تیل معاہدے کی اہمیت پر زور

تہران - ارنا - ایران کے صدر نے فرانسیسی تیل کمپنی ٹوٹل کے ساتھ طے پانے والے نئے معاہدے کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاہدے سے توانائی اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں بین الاقوامی تعاون کے لئے اچھی فضا قائم ہوگی.

ان خیالات کا اظہار صدر مملکت ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے گزشتہ روز تہران میں ٹوٹل کمپنی کے منیجینگ ڈائریکٹر 'پیٹرک پوینے' کے ساتھ ایک ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایرانی وزارت تیل اور ٹوٹل کمپنی کا حالیہ معاہدہ صرف ایک معاہدے کی حد تک محدود نہیں بلکہ یہ ایک سائنسی، ٹیکنالوجی اور انتظامی لحاظ سے اپنی نوعیت کا مثالی معاہدہ ہے.

انہوں نے ایران اور فرانس کے درمیان دیرینہ تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے مزید کہا کہ نئے تیل معاہدے کے ذریعے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی، ٹیکنالوجی سمیت دیگر امور میں مشترکہ تعاون کو مزید فروغ ملے گا.

صدر روحانی نے کہا کہ جوہری معاہدے کے نفاذ کے بعد ایران کے تیل اور گیس شعبوں میں 200 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کے لئے ماحول فراہم ہوگیا ہے اور اب عالمی کمپنیاں اس سرمایہ کاری میں حصہ لے سکتی ہیں.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں قیام امن و استحکام کو مضبوط کرنے لئے باہمی اقتصادی تعاون اور خوشحالی کے لئے راہ ہموار کرنی ہوگی.

اس ملاقات کے دوران ٹوٹل کمپنی کے منیجینگ ڈائریکٹر 'پیٹرک پوینے' نے ایران کے ساتھ طے پانے والے تاریخی تیل معاہدے پر اپنی مسرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں امید ہے کہ اس معاہدے سے ایران کے ساتھ تعاون کے لئے دیگر یورپی کمپنیوں کے لئے اچھی فضا قائم ہوگی.

واضح رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے پیر کے روز سمندری گیس ذخائر کے فروغ کے لئے فرانسیسی کمپنی ٹوٹل کی قیادت میں ایک بین الاقوامی کنسورشیم کے ساتھ 4.8 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کردئے.

17 جنوری 2016 سے ایران مخالف عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد یہ کسی بھی مغربی کمپنی کی ایرانی توانائی شعبے میں پہلی سرمایہ کاری ہے.

اس معاہدے کے مطابق، فرانس کی ٹوٹل اور ایران کی قومی کمپنی پیٹروپارس ایران کے جنوبی ساحلی علاقے میں واقع پارس جنوبی کے 11ویں فیز اور گیس ذخائر کے فروغ کے لئے مشترکہ تعاون کریں گی.

ایران کے توانائی شعبے میں ہونے والی 4.8 ارب ڈالر سرمایہ کاری میں ٹوٹل کمپنی کی سرمایہ کاری کی سطح اور معاہدے کی مجموعی نوعیت نہایت اہم ہے.

٢٧٤**