ایران اور ٹوٹل کمپنی کے درمیان 4.8 ارب ڈالر کے تیل معاہدے پر دستخط

تہران - ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران نے پیر کے روز سمندری گیس ذخائر کے فروغ کے لئے فرانسیسی کمپنی ٹوٹل کی قیادت میں ایک بین الاقوامی کنسورشیم کے ساتھ 4.8 ارب ڈالر کے معاہدے پر دستخط کردئے.

تفصیلات مطابق؛ 17 جنوری 2016 سے ایران مخالف عالمی پابندیوں کے خاتمے کے بعد یہ کسی بھی مغربی کمپنی کی ایرانی توانائی شعبے میں پہلی سرمایہ کاری ہے.

تہران میں ایک خصوصی تقریب کے موقع پر ایران کی قومی تیل کمپنی کے منیجینگ ڈائریکٹر 'علی کاردر'، ٹوٹل کمپنی کے منیجینگ ڈائریکٹر 'پیٹرک پوینے' اور ایران کی پیٹروپارس کمپنی کے سربراہ 'عزت اللہ اکبری' نے اس معاہدے پر دستخط کردئے.

اس موقع پر ایرانی وزیر تیل 'بیژن زنگنہ' اور ایران میں تعینات فرانسیسی سفیر بھی موجود تھے.

اس معاہدے کے مطابق، فرانس کی ٹوٹل اور ایران کی قومی کمپنی پیٹروپارس ایران کے جنوبی ساحلی علاقے میں واقع پارس جنوبی کے 11ویں فیز اور گیس ذخائر کے فروغ کے لئے مشترکہ تعاون کریں گی.

ایران کے توانائی شعبے میں ہونے والی 4.8 ارب ڈالر سرمایہ کاری میں ٹوٹل کمپنی کی سرمایہ کاری کی سطح اور معاہدے کی مجموعی نوعیت نہایت اہم ہے.

فرانس کی سب سے بڑی تیل کمپنی کی ایران میں سرمایہ کاری سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ نامور مغربی کمپنیاں ایک بار پھر ایران کے توانائی، گیس اور تیل شعبوں میں شراکت داری کی خواہاں ہیں.

یاد رہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران گیس ذخائر کے لحاظ سے دوسرا اور تیل ذخائر کے حوالے سے دنیا کا چھوتا بڑا ملک ہے.

٢٧٤**