پُرامن بقا کا واحد راستہ ماحولیاتی مسائل پر تعمیری پالیسی اپنانا ہے: ایرانی صدر

تہران - ارنا - ایران کے صدر نے کہا ہے کہ مغربی ایشیا اور مشرق وسطی کے خطے میں ایک پُرامن زندگی گزارنے کے لئے ماحولیاتی مسائل کے حوالے سے جیت پر مبنی پالیسی اپنانی ہوگی.

ان خیالات کا اظہار صدر مملکت ڈاکٹر 'حسن روحانی' نے پیر کے روز تہران میں منعقدہ بین الاقوامی انسداد ماحولیاتی آلودگی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ماحولیاتی آلودگی کے خاتمے کے لئے ہم سب کو ایک دوسرے کے ساتھ تعان بڑھانا چاہئے اور شانہ بہ شانہ کھڑا ہونا چاہئے.

انہوں نے کہا کہ ہمسایہ ممالک اور دوسری ریاستوں کے تعاون کے بغیر ماحولیاتی آلودگی کے مسائل پر نہیں قابو پایا جاسکتا.

صدر روحانی نے مزید کہا کہ خطے میں کونسا ملک طاقتور ہے ہمیں اس پر توجہ نہیں دینی چاہئے بلکہ اس بات کو مد نظر رکھنا چاہئے کہ ہمیں خطے کو مضبوط اور طاقتور بنانا ہے.

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں ہم سب ایک خاندان کی طرح ہیں اور ایک دوسرے سے دور نہیں رہ سکتے ہیں تاہم اگر کوئی مخصوص ملک خطے میں اپنی طاقت دوسرے ممالک پر مسلط کرنا چاہتا ہے تو یہ غلط ہے.

ایرانی صدر نے کہا کہ آئیں خطے میں جاری جنگوں کی آگ بھجادیں کیونکہ اس کے شعلوں سے ایسے طوفان اٹھیں گے جس سے نہ صرف سیاست کی دنیا میں آلودگی پھیلے گی بلکہ ماحولیاتی لحاظ سے بھی ہمیں نقصانات اٹھانا ہوں گے.

انہوں نے کہا کہ اگر شام و عراق سمیت خطے کے دیگر علاقوں میں داعش اور دوسرے دہشتگرد عناصر کی جانب سے انسانوں کے قتل عام، انفراسٹیکچر اور زرعی زمینوں کی تباہی جاری رہی تو خطے میں آباد زرعی علاقے ریگستان میں بدل جائیں گے اور اس کے نقصانات سے دوسرے ممالک بچ نہیں پائیں گے.

ایرانی صدر نے کہا کہ دہشتگردی ایک خطرناک ناسور ہے جو تمام ممالک کو اپنی لپیٹ میں لے سکتا ہے مگر باہمی تعاون کے ذریعے سے اس لعنت کا خاتمہ ممکن ہے.

انہوں نے کہا کہ جیت پر مبنی پالیسی کے سوا کوئی اور پالیسی خطے میں کارآمد نہیں ہوگی اور اگر کوئی ملک یہ سمجھتا ہو کہ دوسروں کے مفادات کو نظرانداز کرتے ہوئے اپنے مفادات حاصل کرسکتا ہے تو وہ غلط فہمی کا شکار ہے چاہئے وہ امریکہ ہی کیوں نہ ہو.

انہوں نے بتایا کہ آج دیوار اور باڑیں لگانے کا دور ختم ہوچکا ہے اور اگر بعض ممالک کے رہنما دیواریں کھڑی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں تو ان کو پتہ ہونا چاہئے کہ اس دور کا خاتمہ ہوچکا ہے اور اب ہمیں ایک دوسرے کی ٹانگ کھیچنے کے بجائے ایک دوسرے کا ہاتھ تھامنا چاہئے.

صدر روحانی نے کہا کہ کوئی بھی ملک دھمکیوں کے ذریعے اپنے مفادات حاصل نہیں کرسکتا اور اگر سعودی عرب یا امریکہ ایسا سوچ رہے ہیں تو غلطی پر ہیں.

انہوں نے کہا کہ وہ یہاں ناجائز صہیونی ریاست کا نام لینا پسند نہیں کریں گے کیونکہ اس ناجائز ریاست کی بنیادیں غلط پالیسیوں، جارحیت اور قبضے پر مبنی ہیں، لہذا مغربی ایشیا اور مشرق وسطی کے خطے میں امن قائم کرنے کے لئے جیت پر مبنی پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے.

٢٧٤**