ایران، کیمیائی ہتھیاروں کے کسی بھی استعمال کی سختی سے مخالفت کرتا ہے: ظریف

تہران - ارنا - اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ایرانی آئین کے تحت ایران کیمیائی ہتھیاروں کے کسی بھی استعمال کو مسترد کر تا ہے اور اس کی سختی سے مخالفت کرتا ہے.

يہ بات 'محمد جواد ظريف' نے اتوار كے روز كيميائي ہتھياروں كي ممانعت كي تنظيم (OPCW)كے ڈائريكٹر جنرل' احمداُزمجو' كے ساتھ ملاقات كے دوران گفتگو كرتے ہوئے كہي.

ايراني وزير خارجہ نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران خود، صدام كي جانب سے آٹھ سالہ مسلط كردہ جنگ كے دوران ميں كيميائي ہتھياروں كي قربانيوں ميں سے ايك ہے.

انہوں نے ايران كے آئين كے مطابق، كيمياوي ہتھياروں كے كسي بھي استعمال كي سختي سے مخالفت اور ان كے استعمال كو مسترد كرديا.

ظريف نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران ہميشہ اس بات پر زورديا ہے كہ كسي گروپ فوجي تنازعات ميں كيميائي ہتھياڑوں كے استعمال كرنے كے حق نہيں ہے جبكہ شام ميں موجود دہشتگرد گروپ داعش نے شامي حكومت كے خلاف زہريلي اور كيميائي ہتھيار استعمال كرنے سے دريغ نہيں كيا ہے.

انہوں نے شام كے علاقےخان شيخون ميں كيميائي ہتھياروں كے استعمال پر حاليہ رپورٹوں كي طرف اشارہ كرتے ہوئے اور شام ميں كيميائي ہتھياروں كے استعمال كي تصديق كرنے كے لئے بين الاقوامي معائنہ كي ضرورت پر زور ديا.

انہوں نے كہا كہ ايران، اس حوالے سے كيميائي ہتھياروں كي ممانعت كي تنظيم( (OPCWكے ساتھ باہمي تعاون كا خواہاں ہے.

احمد اُزمجو' نےاسلامي جمہوريہ ايران اور اس تنظيم كے درميان ديرينہ تعاون اور تعلقات كي طرف اشارہ كرتے ہوئے اور ايران كي حمايتوں اور ان كي مكمل آمادگي كےاظہار پر شكريہ ادا كيا.

انہوں نے كہا كہ يہ تنظيم، في الحال خان شيخون كے كيميائي ہتھياروں كے استعمال پر تحقيق كر رہي ہے.

*9410*271**