امريکيوں کا مقصد ايران کي علاقائي پوزيشن کو کمزور کرنا ہے: ايراني اسپيکر

تہران - ارنا - ايراني مجلس(پارليمنٹ) کے اسپيکر نے اسلامي نظام کي ترقي ميں شہيد بہشتي کے اہم کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ شہيد بہشتي نے صبر اور رواداري کے ساتھ منافقين کے عزائم کا پردہ چاک کيا ہے.

يہ بات 'علي لاريجاني' نے اتوار کے روز تہران ميں منعقدہ ايراني عدليہ کي کانفرنس ميں شہيد آيت اللہ 'سيد محمد حسين بہشتي' کے فضائل کے بارے خطاب کرتے ہوئے کہي.

انہوں نے صبر اور تحمل کو شہيد بہشتي کي سب سے اہم خصوصيات قرار ديتے ہوئے مزيد بتايا کہ يہ ايران کے اسلامي نظام کي ترقي کے لئے بہت اہميت کے حامل ہيں.

ايراني اسپيکر نے ماضي ميں شہيد بہشتي کي تقريروں کي طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کي تقريروں سے ہميشہ ايراني معاشرے پر مثبت اثر پڑے اسي ليے منافقين، ان کي تقارير پر خلل ڈالنے کي کوشش کرتے تھے.

لاريجاني نے اپنے بيان ميں بين الاقوامي مسائل کا حوالہ ديتے ہوئے مزيد بتايا کہ امريکہ، ايران پر بين الاقوامي دباو ڈالنا چاہتا ہے.

انہوں نے بتايا کہ ايسا لگتا ہے کہ امريکہ، گزشتہ چند مہينوں ميں اپني پاليسيوں کا اظہار اور پيچيدہ عمل کر رہا ہے.

انہوں نے کہا کہ امريکہ کے سب سے اہم مقاصد ايران کي علاقائي پوزيشن کو کمزور کرنا ہے اور ميزائل اور دہشتگردي مسئلہ کے ليے امريکي سينٹ کے کچھ منصوبوں کو اس مقصد کے حصول کے ليے ہے جو نہايت افسوسناک ہے.

ايراني اسپيکر نے کہا کہ اسلامي جمہوريہ ايران، يقيني طور پر امريکي سينيٹ کي جانب سے جوہري معاہدے کي خلاف ورزيوں کا منہ توڑ جواب دے گا.

انہوں نے کہا کہ ايران کي 12 ويں حکومت کو موثر اور انقلابي ہونا چاہئے اور انہوں نے مزيد کہا کہ ہميں ملک کے بے روزگاري، اقتصادي اور سرمايہ کاري مسائل کے حل کے ليے سنجيدہ اقدامات اٹھانے چاہيں.

*9410*271**