ناجائز صہیونی ریاست، ایران،عراق، شام اور لبنان کے تعلقات کی مضبوطی سے خوفزدہ ہے: لبنانی تجزیہ کار

بعبلک - ارنا - لبنان کے اسٹریٹجک امور کے ماہر نے کہا ہے کہ خطے میں نئی سیکورٹی کے رجحانات سے ایران،عراق، شام اور لبنان کے تعلقات کی مضبوطی میں مدد ملی ہے جس سے ناجائز صہیونی ریاست بہت خوفزدہ ہے.

يہ بات لبناني فوج كے ريٹائرڈ بريگيڈيئر 'الياس حنا' نے خطے ميں مسائل اور نئي سيكورٹي واقعات اور رجحانات كے بارے ميں ارنا كے نمائندے كے ساتھ تفصيلي انٹرويو ديتے ہوئے كہي.

اس موقع پر ارنا كے نمائندے نے خطے ميں نئي سيكورٹي تبديليوں بشمول عراق كے بہت سےعلاقوں كي آزادي، شامي فوج كي كاميابيوں اور داعش كے خلاف ايران كے ميزائل حملے كي طرف اشارہ كرتے ہوئے خطے كي سيكورٹي كے حوالے سے سوال كے جواب ميں كہا كہ عراق كي الحشد الشعبي فورسز، شام كي فوج اور حزب اللہ فورسز اور علاقائي اتحادي فورسز،اس ميدان كے سب سے اہم كرداروں ميں شامل ہيں جس كے نئے قلم رو،شام كے القنطيرہ صوبے سے لبنان تك اور شام، عراق اور ايران كي سرحدوں ميں شامل ہيں.

انہوں نے مزاحمتي فرنٹ كي جانب سے ايك زميني محور كو تشكيل دينے اور اس ميں ايران كے كردار كے حوالے سے كہا كہ ايران سريع الحركت فورسز اور مختلف ميزائلوں كے استعمال كے ساتھ يہ غاصب صيہوني رياست كے ليے ايك بڑا چيلنج ثابت ہوا ہے.

لبناني ماہر نے مزيد كہا كہ حقيقت ميں مزاحمتي فرنٹ نے آئندہ جنگ كے ليے اپني فتح كے راستے كو تلاش كيا ہے اور يوم القدس ميں حزب اللہ كے سيكريٹري جنرل سيد حسن نصراللہ كا خطاب نفسياتي جنگ كي ايك قسم تھا اور يہ حاليہ واقعات سے لا تعلق ہيں اور اس آپريشن كے عمل ميں تيزي آنے سے ناجائز صہيوني رياست كي پريشاني ميں اضافہ ہوا ہے.

لبناني ماہر نے كہا كہ ايران، ناجائز صہيوني رياست كے سب سے بڑا اور اہم دشمن ہے اور ايران نے صبر اور اپني مخصوص پاليسي كے ذريعے اپنے زميني پل كو اسرائيل كي سرحدوں تك آگے بڑھ كر سكا ہے اور يہ پل، قريب مستقبل ميں اسرائيل پر بہت انساني اور مالي نقصان پہنچائے گا اور اسرائيل كي تباہي كا باعث ہوجائے گا.

انہوں نے خطے كے نئے تحوالات كے بارے امريكي اور روس كے پروگراموں كے سوال كے جواب ميں كہا كہ سب جانتے ہيں كہ ان بحرانوں كے حل كے ليے امريكي صدر كے پاس كوئي واضح حكمت عملي ہے تاہم امريكي صدر سالانہ امريكي وزارت خارجہ كے بجٹ كے ايك حصے كو وزارت دفاع اور شام، عراق اور افغانستان ميں فوجي فورسز كے ليے مختص كر رہا ہے ليكن اس كے مقابلے ميں روزان ايراني طاقت اور سرگرميوں ميں اضافہ ہو رہا ہے.

انہوں نے كہا كہ مشرقي حلب ميں پيش رفت اور شامي باغيوں اور امريكہ كي ناكاميوں كے بعد، ايران، شامي حكومت اور روس اس بات پر يقين ركھتے ہيں كہ شامي بحران كا بہترين حل فوجي طريقہ ہے.

انہوں نے خطي مسائل اور چيلنجوں ميں ايران كي كاميابيوں كي طرف اشارہ كرتے ہوئے بتايا كہ دہشتگرد داعش گروپ كے ٹھكانوں پر ايران كے ميزائل حملوں سے ايران كي دفاعي اور فوجي طاقت ظاہر ہوتي ہے.

انہوں نے خطے كےعلاقائي صورتحال كے حوالے سعودي عرب كے پروگراموں كے بارے ميں كہا كہ سعودي عرب ايران كي طرح خطے ميں اپنے مقاصد كو پيچھا كر كے اور ليكن سعودي عرب اندروني تنازعات كا شكار ہے اور اس كے حل كے ليے ايران كے ساتھ محاذ آرائي سے قبل سب سے پہلے خليج فارس كے ركن ممالك اور اپنے اندروني حالات كو بحال كرنے كي كوشش رہا ہے.

9410٭274٭٭