ایرانی میزائل قابلیت کی ترقی  کم سے کم دفاع کے لئے ناگزیر ہے: بروجردی

مشہد - ارنا - سنئیر ایرانی رکن مجلس اور قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے چیئرمین نے کہا ہے کہ غیرملکی دھمکیوں کے مقابلے میں ایرانی میزائل قابلیت کی ترقی کم سے کم دفاع کے لئے ناگزیر ہے.

يہ بات 'علاء الدين بروجردي' نے ہفتہ كے روز ايران كے مذہبي صوبے مشہد مقدس ميں ايك پريس كانفرنس ميں خطاب كرتے ہوئے كہي.

اس موقع پر انہوں نے كہا كہ ايراني ميزائل ٹيسٹ كا منصوبہ سلامتي كونسل كي قرارداد نمبر 2231 سے متعلق نہيں ہے اور ايراني وزارت خارجہ نے اس حوالے سے ايك بيان نشر كرتے ہوئے پارليمنٹ ميں ميزائل كي قابليت كي ترقي كے لئے بھاري بجٹ كي تجويز پيش كي تھي.

انہوں نے آٹھ سالہ تحميلي جنگ كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ جب ہم نے قبول كرليا ہے كہ اپنے ملك كے دفاع كے لئے كسي طرح كے حياتياتي، كيميائي اور جوہري ہتھياروں كي ضرورت نہيں ہے امريكہ، كئي علاقائي ممالك اور ناجائز صہيوني حكومت 200 جوہري ہتھياروں كے ذريعہ مظلوم لوگوں كو قتل عام كررہے ہيں.

ايراني عہديدار نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران حياتياتي، كيميائي اور جوہري ہتھياروں كے استعمال كے بغير اپني ميزائل قابليت كي ترقي كو فروغ دے رہا ہے.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ كسي حد كے بغير ميزائل كي صلاحيتوں كي ترقي كو جاري رہيں گے اور يہ ايران كي اسٹريٹجك پاليسي ہے اور ہم كسي بھي دباؤ كو قبول نہيں كرتے ہيں.

ايراني قومي سلامتي و خارجہ پاليسي كميٹي كے چيئرمين نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران نے سعودي عرب كے ساتھ قومي مفادات كے لئے سنجيدہ اقدامات كئے ہيں اور دونوں ممالك كے درميان موجودہ مسائل كے حل كے لئے سعودي عرب كو پہلا قدم اٹھانا چاہيئے.

سنئير ايراني ركن مجلس نے كہا كہ ايراني وزير خارجہ 'محمد جواد ظريف' نے رياض كي حكومت كے آغاز سے اب تك دونوں ممالك كے درميان مسائل كے حل كے لئے براہ راست مذاكرات كے انعقاد پر زور ديا.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ سعودي عرب عراق، شام، فلسطين اور يمن كي حاليہ تبديليوں ميں ناكام ہوگيا ہے اور بڑے پيمانے پر تيل كي آمدني اور امريكہ سے ہتھياروں كي خريداري كے ذريعہ ملك بحرانوں كو حل نہيں كرسكتا ہے.

علاء الدين بروجردي نے قطر اور سعودي عرب كے درميان دوطرفہ تعلقات كے خاتمے كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ قطر تمام پابنديوں كے باوجود سعوديوں كے سامنے شكست نہيں كھائے گا اور اسلامي جمہوريہ ايران كي خارجہ پاليسي كي اہم ترجيح ہمسايہ ممالك كے ساتھ دوستانہ تعلقات قائم كرنا اور ہم قطر كي ضروريات پورا كرنے كے لئے تيار ہيں.

انہوں نے كہا كہ جوہري معاہدے ايك قومي فيصلہ تھا اور امريكہ عالمي قوانين كي خلاف ورزي كررہا ہے مگر رہبر معظم كي ہدايات كے مطابق ہم اس بين الاقوامي معاہدے كي خلاف ورزي نہيں كريں گے.

انہوں نے بتايا كہ ہم ايراني پارليمنٹ كے نمائندے امريكي سينيٹ كي خلاف ورزي كا مقابلہ كرنے كے لئے سنجيدہ اقدامات كريں گے.

9393*274**