بھارت کا ایران میں امونیا اور یوریا کی فیکٹری لگانے پر غور

نئی دہلی - ارنا - بھارت کی کھاد اور کیمیائی مواد کمپنی اسلامی جمہوریہ ایران کے ساحلی علاقے 'چابہار' میں امونیا اور یوریا کی فیکٹری لگانے پر غور کررہی ہے.

یہ بات بھارت کی کھاد اور کیمیائی مواد کمپنی (GSFC) کے صدر 'اے ایم تیواری' نے ہفتہ کے روز صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہی.

اس موقع پر انہوں نے کہا کہ ایران میں امونیا اور یوریا کی فیکٹری لگانے کی ایک اصل وجہ یہ ہے کہ وہاں گیس آسانی سے دستیاب ہے جو امونیا اور یوریا کی پیداوار کے لئے بنیادی مواد ہے.

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور بھارت کے درمیان مئی 2016 میں چابہار بندرگاہ کو فروغ دینے کے معاہدے پر دستخط کے بعد اس کمپنی نے فیصلہ کیا کہ چابھار میں یوریا فیکٹری کی تعمیر کی جائے.

بھارتی عہدیدار نے بتایا کہ ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کا ایک اہم سنگ میل مستقبل میں چابہار میں فری تجارتی زون کا قیام ہے جس کی لاگت 15 ارب ڈالر ہے.

انہوں نے کہا کہ چابہار میں امونیا اور یوریا کی فیکٹری لگانے کے لئے 80 کروڑ ڈالر لاگت آئے گی.

بھارت کی کھاد اور کیمیائی مواد کمپنی (GSFC) کے صدر نے مزید کہا کہ مختلف بھارتی کمپنیاں چابہار میں ایلومینیم اور یوریا کی فیکٹریاں لگانے میں دلچسپی رکھتی ہیں.

یاد رہے کہ ایران، بھارت اور افغانستان نے مئی ٢٠١٦ کو تہران میں ایران کی بندرگاہ چابہار کے راستے افغانستان 'ٹرانزٹ ٹریڈ' کی سہولت مہیا کرنے کے لیے سہ فریقی معاہدے پر دستخط کردئے.

اس معاہدے کے تحت چابہار کی بندرگاہ سے پوری طرح فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جائے گی.

اس کے علاوہ ایران اور بھارت نے جنوبی ایران میں چابہار بندرگاہ کی ترقی سمیت متعدد معاہدوں پر دستخط کیے جن میں وسطی ایشیا کے سمندروں سے دور ممالک کے لیے تجارتی راستوں کی وسعت کے معاہدے بھی شامل ہیں.

٢٧٤**