امریکہ، شام میں القاعدہ کی حمایت کر رہا ہے: روس

ماسکو - ارنا - روسی سینیٹ کے اعلی عہدیدار کا کہنا ہے کہ شام میں موجود القاعدہ کے دہشتگردوں کو امریکی پشت پناہی حاصل ہے جس کا مقصد شام میں حکومت کا تختہ الٹنا ہے.

یہ بات روسی سینٹ کی معلوماتی پالیسی کمیٹی کے چیئرمین 'الیکسی پشکوف' نے اپنے ایک ٹویٹر پیغام میں کہی.

انہوں نے کہا کہ شام میں دہشتگرد تنظیم القاعدہ، شامی حکومت کو تبدیل کرنے کے لیے امریکہ کی اتحادی ہے اور اس وقت امریکہ شام پر بلاوجہ حملے کے لئے اپنی سمندری اور فضائی فورسز کو تیار کر رہا ہے.

روسی میڈیا کے مطابق، امریکی ترجمان دفترخارجہ 'ہیدر ناؤٹ' نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن شام میں دہشت گردوں کی جانب سے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال پر یقین نہیں رکھتا ہے، جبکہ سپتنک خبر رساں ادارے کے مطابق، ایک روسی سفارتکار نے کہا کہ دہشتگرد گروپ، شامی علاقے درعا میں اپنے جنگجوں کو تیار کر رہے ہیں جس کا مقصد خان شیخون واقعے کی طرح اس بار مبینہ طور پر کیمیائی ھتھیاروں کا استعمال کرنا ہے.

انہوں نے بتایا کا ایسے اشتعال انگیز اقدامات کے سب سے اہم مقصد، شامی حکومت کا تختہ الٹنے کے لئے شام پر امریکی فورسز کے حملے کے لیے حالات کو تیار کرنا ہے.

روسی محکمہ خارجہ کے ترجمان 'ماریا زاخارووا' نے اپنے حالیہ بیان میں اعلان کیا کہ امریکہ نے شام کے خلاف اپنے بے بنیاد کیمیائی دعوے کے منصوبے میں دمشق کے ساتھ ساتھ ماسکو کا نشانہ بنایا ہے اور اس حوالے سے انہوں نے کہا کہ دہشتگردی گروپوں، شام کے سراقب، اریحا کے علاقوں میں زہریلا مواد کے ساتھ حملہ کرنا چاہتے ہیں.

یاد رہے کہ ماریا زاخارووا نے گزشتہ جمعرات صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شامی فورسز کی جانب سے شام پر کیمیائی حملے کی مبنی پر امریکی کے اشتعال انگیز دعوے نے نہ صرف شام بلکہ روسی حکومت کا نشانہ بنایا ہے.

انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے یہ پہلی بار نہیں ہے جو امریکہ، کوئی دستاویز اور معلومات پیش کرنے کے بغیر شام کو کیمیائی حملہ کرنے کا الزام لگا رہا ہے.

روسی وزیر خارجہ بھی اس سے قبل نے کہا تہا کہ شامی فورسز کی جانب سے کیمیائی ہتھیاڑوں کی مبنی پر وائٹ ہاؤس کے دعوی، ایک غیر معقول اور خطرناک اقدام ہے اور اس ملک، روس مخالف اشتعال انگیز اقدامات کے لیےامریکا کا منہ توڑ جواب دیا جائے گا۔

یاد رہے کہ گزشتہ مہینوں میں امریکہ کی شام پر جارحیت اور شام کی الشعیرات ایئربیس کو نشانے بنانے کا ذکر کرتے ہوئے شامی صدر نے کہا کہ امریکہ نے شامی علاقے خان شیخون میں نام نہاد کیمیائی حملے کے واقعے سے شام پر جارحیت کرنے کے لئے فائدہ اٹھایا.

یاد رہے کہ گزشتہ ماہ امریکا نے شام کے خلاف میزائل سے متعدد حملے کیے. امریکی محکمہ دفاع کے مرکز پینٹاگون نے بتایا کہ کہ مشرقی بحیرہ روم میں بحری بیڑے سے تقریبا 50 ٹام ہاک کروز میزائل سے شام کے ایک ہوائی اڈے کو نشانہ بنایا گیا.

تفصیلات کے مطابق اس حملے کے نتیجے میں 100 افراد زخمی اور 400 زخمی ہوگئے.

9410٭274٭٭