شام میں کیمیائی ھتھیاروں کے استعمال ہونے کے دعویدار، صدام کے جرم میں شریک تھے: ایران

تہران - ارنا - ایران کے وزیرخارجہ نے آٹھ سالہ جنگ کے دوران عراق کے آمر صدام کی جانب سے نہتے ایرانی شہریوں کے خلاف کیمیائی حملوں پر انسانی حقوق کے نام نہاد علمبرداروں کی خاموشی کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران ایسے تمام مہلک ھتھیاروں کے خاتمے اور کے استعمال روکنے کے لئے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا.

یہ بات 'محمد جواد ظریف' نے ہفتہ کے روز ایرانی شہر 'سردشت' پر عراقی کیمیائی ھتھیاروں کے حملے کی ٣٠ویں سالگرہ کے موقع پر اپنے ایک خصوصی پیغام میں کہی.

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ آٹھ سالہ مسلط شدہ جنگ کے دوران عراق کی جانب سے کمییائی حملوں میں شہید اور متاثر ہونے والے ایرانی شہریوں کے حقوق کے حصول کے لئے دفترخارجہ کی عالمی کوششیں جاری ہیں.

اس موقع پر کیمیائی ہتھیاروں میں شہید اور متاثر ہونے والے افراد کے خاندانوں سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے اس بات پر زور دیا کہ ایرانی وزارت خارجہ عالمی سطح پر کیمیائی حملوں میں متاثر ہونے والے شہریوں کے حقوق کے لئے جد و جہد جاری رکھے ہوئے ہے.

انہوں نے کہا کہ 28 جون کو ایران میں سردشت پر عراقی کیمیائی حملوں کی سالگرہ کے طور پر منایا جاتا ہے اور ہم اس دن میں غریب اور مظلوم سردشت کے عوام کی یاد کو تازہ کرتے ہیں.

جواد ظریف نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران اس دن کو قومی انسداد کیمیائی ھتھیاروں کے دن کے طور پر مناتا ہے.

ظریف نے کہا کہ آج شام میں جو عناصر مہلک ھتھیاروں کو استعمال کررہے ہیں وہ انھی لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے تیس سال پہلے مظلوم ایرانی عوام ان مہلک ھتھیاروں کا استعمال کیا.

انہوں نے داعش کے دہشتگردوں کی جانب سے کیمیائی ھتھیاروں کے استعمال پر خبردار کرتے ہوئے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ دہشتگردوں کے علاقائی اور عالمی حامیوں پر نظر رکھے

انہوں نے مزید کہا کہ آٹھ سالہ مسلط شدہ جنگ کے دوران عالمی سامراجی قوتوں نے کوشش کی کہ ایران میں اسلامی انقلاب کے خلاف جنگ مسلط کرنے کے بعد ایران کو اپنی سازشوں کا شکار کریں مگر ایرانی نہ ڈر اور با غیرت قوم نے ان تمام سازشوں کو خاک میں ملادیا.

ایرانی وزیر خارجہ نے کہا کہ عراق کی جانب سے کیمیائی ھتھیاروں کے حلموں پر عالمی برداری نے خاموشی اختیار کی مگر ان ظالمانہ حملوں میں لاکھوں ایرانی غریب عوام شہید ہوئے تاہم ایسے اقدامات سے ایرانی قوم کے عزم اور ارادے متاثر نہیں ہوئے.

انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران عالمی انسداد کیمیائی ھتھیار تنظیم کے ایک ذمہ دار رکن کی حیثیت سے دنیا میں کیمیائی ھتھیاروں کے خاتمے کے لئے باقی رکن ممالک کے ساتھ اپنا تعاون جاری رکھے گا.

٢٧٤**