مشرق وسطی میں واشنگٹن کی ایران مخالف پالیسی کامیاب نہیں ہوگی: ایرانی سفیر

تہران - ارنا - لیبیا میں تعینات سابق ایرانی سفیر نے کہا ہے کہ امریکی صدر کے سعودی عرب کے حالیہ دورے کا مقصد ایران فوبیا اور سعودیوں کو اپنے ہتھیاروں کی فروخت تھا مگر ایسے اقدامات سے ایران مخالف پالیسی کامیاب نہیں ہوگی.

يہ بات ايراني تجزيہ كار برائے مشرق وسطي اور افريقي امور 'جعفر قناد باشي' نے منگل كے روز ارنا كے نمائندے كے ساتھ گفتگو كرتے ہوئے كہي.

اس موقع پر انہوں نے امريكہ اور سعودي عرب كے درميان دستخط ہونے والے اسلحہ كي فروخت كے 1.10 كروڑ كے معاہدے كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ ٹرمپ اور اس كي حكومت نے اب تك مشخص رويہ اختيار نہيں كيا اور ناجائز صہيوني حكومت كي حوصلہ افزائي اور سعودي عرب كے وعدوں كي وجہ سے مشرق وسطي كے مسائل ميں مداخلت كرتا ہے.

قناد باشي نے سابق امريكي صدر 'باراك اوباما' اور ٹرمپ كے نقطہ نظر كے حوالے سے كہا كہ اوباما كي حكومت كے وزير خارجہ 'كلينتون' نے اعلان كيا تھا كہ امريكا اپني خارجہ پاليسي كے مطابق خطے كے اندروني مسائل ميں مداخلت نہيں كرے گا اور جنوب مشرقي ايشيا پر اپني توجہ مركوز ركھے گا مگر ٹرمپ اقتصادي نگاہ كے ساتھ تمام ممالك كو ديكھ رہا ہے جو انہوں نے اپني مالي خواہشات كے لئے سعودي عرب كا دورہ كيا ليكن سعودي عرب كے لئے امريكا كي مالي حمايت ضروري ہے.

انہوں نے واشنگٹن اور رياض كے درميان دستخط ہونے والے معاہدے كے مقصد كے حوالے سے كہا كہ موجودہ صورتحال ميں سعودي عرب اقتصادي اور خارجہ پاليسي كے حوالے سے مختلف چيلنجوں كا شكار ہے اور سعودي لوگوں بے روزگاري، يمن كے خلاف جنگ ميں ناكامي اور مضبوط پاليسي اور حكمت عملي كي كمي سعودي عرب كے ان مسائل اور مشكلات ميں سے ايك ہے.

سابق ايراني سفير نے كہا كہ سعوديوں نے اقتصادي مقاصد سے زيادہ اپنے سياسي مقاصد كو حاصل كرنے كے لئے امريكي صدر كو اس ملك كے دورے كي دعوت دي كيونكہ اس دورے كے دوران ٹرمپ نے اقتصادي كانفرنسوں كي بجائے تمام سياسي مسائل كے اجلاس ميں شركت كي.

انہوں نے مزيد كہا كہ سعودي لوگ امريكہ اور سعودي حكام كے درميان دستخط ہونے والے ہتھياروں كي فروخت كے معاہدے پر اظہار تشويش كريں گے مگر سعودي حكومت اپني قوم كے نقطہ نظر كو اہميت نہيں ديتي اور صرف امريكا ميں سرمايہ كاري چاہتي ہے.

ايراني تجزيہ كار نے بتايا كہ ٹرمپ كے سعودي عرب كے حاليہ دورے كے مقاصد ميں سے ايك ايران فوبيا كے پھيلاو اور اپنے ہتھياروں كي فروخت تھا اور سعودي عرب اور ناجائز صہيوني حكومت نے اس كي حوصلہ افزائي كي ہے مگر اعلي ايراني جوہري مذاكرات كار 'سيد عباس عراقچي' كے مطابق ٹرمپ عالمي جوہري معاہدي كي خلاف ورزي نہيں كر رہا ہے.

انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ اسلامي جمہوريہ ايران كوئي الگ تھلگ ملك نہيں ہے بلكہ قطري امير كے مطابق خطے ميں ايك بڑا طاقتور ملك ہے.

انہوں نے كہا كہ سعودي عرب ايك جمہوري ملك نہيں ہے اور اقتصادي تنظيميں اپنے ملك كے مفادات كو اہميت نہيں ديتے اسي لئے سعوديوں كو زيادہ مسائل كے سامنا ہے.

انہوں نے ٹرمپ كے انتخاباتي وعدے اور اسرائيل اور فلسطين كے درميان مسئلے كے حل كے حوالے سے كہا كہ ناجائز صہيوني رياست اور مقبوضہ فلسطين كے درميان تنازعات كا حل ٹرمپ كي حكومت كي پہلي ترجيح نہيں ہے بلكہ يہ صرف ايك انتخاباتي جھوٹا وعدہ تھا.

9393*274**