ایران جوہری معاہدے پر دوبارہ مذاکرات کو تسلیم نہیں کریں گے: فرانس

تہران - ارنا - فرانسیسی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ ان کا ملک ایران جوہری معاہدے کے خلاف کسی بھی منصوبے یا اقدام کی مخالفت کرتا ہے اور اگر اس حوالے سے دوبارہ مذاکرات کرنے کی تجویز دی گئی تو اس کی بھی مخالف کریں گے.

يہ بات 'يان مارک آئرولٹ' نے منگل کے روز دورہ تہران کے موقع پر اپنے ايراني ہم منصب محمد جواد ظريف کے ساتھ مشترکہ پريس کانفرنس کرتے ہوئے کہي.



اس موقع پر انہوں نے کہا کہ امريکي صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انتخاباتي مہم کے دوران ايران جوہري معاہدے کے خلاف مختلف باتيں کہي ہے اور جس پر ہم اپني تشويش کا اظہار کرتے ہيں مگر ہوشيار اور احتياط کے ساتھ ديکھنا چاہئے کہ مستقبل ميں کيا ہونے جارہے ہيں.



امريکي صدر کي جانب سے ويزا پابنديوں کے اقدامات پر تشويش کا اظہار کرتے ہوئے فرانسيسي وزيرخارجہ نے کہا کہ انہوں نے اس حوالے سے اپنے جرمن ہم منصب سے بھي بات چيت کي ہے.



انہوں نے کہا کہ انسداد دہشتگردي کے بہانے پر جانبدرانہ رويے سے ويزوں پر پابندي لگانا نہايت تشويش کي بات ہے اور ہم سمجھتے ہيں کہ امريکہ کو اپنے اس فيصلے سے پيچھے ہٹنا چاہئے.



ایران،فرانس بینکاری تعلقات کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ فرانسیسی بینکوں کو مثبت کی نگاہ سے دیکھنا چاہئے، دوطرفہ بینکاری تعاون کے حوالے سے کچھ پیشرفت سامنے آئی ہے اور مزید پیشرفت جلد ہوگی.



انہوں نے مزید کہا کہ فرانسیسی وزیر خزانہ مارچ میں ایران کا دورہ کریں گے اور اس حوالے سے دونوں ممالک کے درمیان بعض امور پر مفاہمت طے ہوئی ہے.



فرانسیسی وزیر خارجہ نے ایران کے میزائل تجربے کے حوالے سے بتایا کہ رپورٹس کا جائزہ لے رہے ہیں تاہم فرانس متعدد بار اس حوالے سے اپنی تشویش کا اظہار کرچکا ہے اور اس مسئلے کو ایرانی فریق کے سامنے دوطرفہ تعلقات کو مد نظر رکھتے ہوئے نیک نیتی کے ساتھ اٹھایا ہے.



٢٧٤**