ایران کے دفاع کیلئے دوسروں پر انحصار نہیں/امریکہ نئی کشیدگی سے باز رہے: ظریف

تہران - ارنا - ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے میزائل پروگرام نہ تو سلامتی کونسل کی قرارداد 2231 کی خلاف ورزی ہے اور نہ ہم اپنے ملک کے دفاع کو دوسروں کے آسرے پر چھوڑیں گے.

ان خيالات کا اظہار 'محمد جواد ظريف' نے منگل کے روز تہران ميں ايران کے دورے پر آئے ہوئے اپنے فرانسيسي ہم منصب 'يان مارک آئرولٹ' کے ساتھ پريس کانفرنس کرتے ہوئے کيا.



اس موقع پر ظريف نے کہا کہ ہميں اميد ہيں کہ ايران کے ميزائل پروگرام کو جو سلامتي کونسل کي قراردادوں اور جوہري معاہدے کے زمرے ميں نہيں آتا، سياسي مقاصد کے لئے بہانہ نہ بنايا جائے.



انہوں نے کہا کہ نئي امريکہ حکومت ممکنہ طور پر ايسے بہانے کرتے ہوئے خطے ميں نئي کشيدگي پيدا کرستي ہے حالانکہ موجودہ امريکي حکومت شرمناک رويے سے جن لوگوں کے پاس قانوني ويزے ہيں ان کے داخلے پر پابندي عائد کي ہے.



جوہری معاہدے پر ایران کی شفاف کارکردگی اور وعدوں پر پابندی کا ذکر کرتے ہوئے ظریف نے کہا کہ عالمی جوہری توانائی ایجنسی اور جوہری معاہدے میں شریک مغربی ممالک نے بھی متعدد بار اس بات کی تصدیق کی ہے.



انہوں نے بتایا کہ بدقسمتی سے جوہری معاہدے میں شامل بعض ممالک بالخصوص امریکہ کی جانب سے جس طرح وعدوں پر عمل کرنے کی توقع رکھتے تھے ایسا نہیں ہوا اور ایران کو جوہری معاہدے کے نفاذ کے لئے مجبوری طور پر سیاسی دباؤ کا استعمال کرنا پڑا ہے.



انہوں نے مزید بتایا کہ اب بھی بعض امریکی سرحدپار قوانین کی وجہ سے ایران جوہری معاہدے کے نفاذ کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے.



ظریف نے بتایا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے میزائل پروگرام جوہری معاہدے کے زمرہ میں شمار نہیں ہوتا اور اس حوالے سے جوہری مذاکرات کی سربراہی کرنے والی فرانسیسی حکومت اور سابق امریکی حکومت نے بھی اعلان کرچکی تھیں کہ ایرانی میزائل پروگرام کا جوہری معاہدے سے کوئی تعلق نہیں ہے.



انہوں نے اس بات پر زور دیاکہ ایرانی بیلسٹک میزائل پروگرام میں ایسا کوئی اقدام نہیں جس سے یہ ثابت ہو کہ میزائل پروگرام جوہری مقاصد کے لئے ہے.



ظریف نے کہا کہ ایرانی قوم نے عالمی دہشتگردی اور غیرملکی جارحیت کی بھاری قیمت سہی ہے. عراق کی جانب سے ایران کے خلاف آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے حوالے سے عالمی برادری نے شرمناک موقف دیکھائی مگر ایرانی قوم اپنے دفاع کے لئے دوسروں پر انحصار نہیں کرتی.



٢٧٤**