پاك،ايران پارليماني وفود كا چابہار اور گوادر بندرگاہوں كا دورہ متوقع

اسلام آباد - ارنا - پاكستاني قومي اسمبلي كي قائمہ كميٹي برائے امور خارجہ كے سربراہ نے كہا ہے كہ اسلامي جمہوريہ ايران اور پاكستان كي پارليمنٹ كے وفود جلد مستقبل ميں چابہار اور گوادر بندرگاہوں كا مشتركہ دورہ كريں گے.

ان خيالات كا اظہار 'سردار اويس احمد خان لغاري' نے منگل كے روز ارنا كے نمائندے كو خصوصي انٹريو ديتے ہوئے كيا.



اس موقع پر انہوں نے كہا كہ گوادر اور چاہ بہار سسٹرز پورٹس اور ايك دوسرے سے منسلك ہيں اور دونوں ممالك كے پارليماني وفود كے مشتركہ دوروں سے ان دو بندرگاہوں كو ايك دوسرے كي حريف قرار دينے كے منفي اثرات بھي زائل ہوں گے.



انہوں نے بتايا كہ چابہار اور گوادر كا مشتركہ دورہ پاك،ايران مضبوط تعلقات كا ثبوت ہے اور اس موقع پر دونوں بندرگاہوں كے درميان تعاون كے مواقع كا بھي تفصيلي جائزہ ليا جائے گا.



اويس لغاري نے كہا كہ وہ چابہار اور گوادر بندرگاہوں كا دورہ كرنے والے پاكستاني وفد كي قيادت كريں گے جبكہ ايراني مجلس كي قومي سلامتي اور خارجہ پاليسي كميٹي كے چيئرمين علاء الدين بروجردي ايراني وفد كے سربراہ ہوں گے.



انہوں نے كہا كہ چابہار اور گوادر ايران اور پاكستان كي جانب سے علاقائي ممالك كے لئے عالمي تجارت كا دروازہ ثابت ہوسكتي ہيں.



انہوں نے علاء الدين بروجردي كے حاليہ پاكستان كے دورے كے تعميري نتائج كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ پاك،بھارت مسائل كے خاتمے پر ايران كي ثالثي كي پيشكش پر بھي بات چيت ہوئي اور اس مسئلے پر توجہ دينے كے لئے ايراني حكومت كي قدر كرتے ہيں.



سنئير پاكستاني ركن پارليمنٹ نے اس بات پر زور ديا كہ ايران اور پاكستان كے عوام اور حكومتوں كے درميان آئے دن تعلقات ميں مزيد اضافہ ہوں گے اور يہ قريبي روابط بيروني عناصر كے عزائم سے ہرگز متاثر نہيں ہوسكتے.



٢٧٤**