مزاحمتی اقتصاد پالیسی کے نفاذ پر نجی شعبوں کا اہم کردار ہے: ایرانی صدر

تہران - ارنا - ایرانی صدر نے مزاحمتی اقتصادی سال میں حکومت کی اعلی کارکردگی کا ذکر کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ ملک میں مزاحمتی اقتصاد پالیسی کے نفاذ کے لئے نجی شعبوں کی صلاحیتوں سے بھرپور استفادہ کرنا چاہئے.

ان خيالات كا اظہار صدر مملكت 'حسن روحاني' نےمنگل كے روز تہران سے ملحقہ صوبہ 'البرز' ميں اناج صاف كرنے والي مشرق وسطي كي سب سے بڑي فيكٹري كي افتتاحي تقريب كے موقع پر خطاب كرتے ہوئے كيا.



اس موقع پر انہوں نے عشرہ فجر كي آمد اور اسلامي انقلاب كي سالگرہ پر ايراني قوم كو مباركباد پيش كرتے ہوئے كہا كہ رواں ايراني سال كو مزاحمتي اقتصاد؛ اقدام اور عمل كو نام ديا گيا تھا اور اس مقصد كے لئے قوم اور حكومت نے سپريم ليڈر كے احكامات كو لبيك كرتے ہوئے اعلي كاركردگي كا ثبوت پيش كرديا ہے.



انہوں نے كہا كہ رواں ايراني سال كو مزاحمتي اقتصادي كا سال نام ديا گيا اور حكومت نے اس مقصد كے لئے نماياں كاركردگي ظاہر كردي ہے.



انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ مزاحمتي اقتصادي پاليسي كے نفاذ كے لئے نجي شعبوں كو بھي موقع دينا چاہئے جس كے بعد اس مقصد ميں اچھے نتائج برآمد ہوں گے.



صدر روحاني نے اس موقع پر كہا كہ زر نامي اناج صاف كرنے والي فيكٹري كے افتتاح سے 6500 روزگار كے مواقع فراہم ہوئے ہيں.



٢٧٤**