اسلامی ممالک ٹرمپ کے اقدامات پر بھرپور ردعمل دیں: ایرانی چیف جسٹس

تہران - ارنا - ایرانی عدلیہ کے سربراہ نے اسلامی ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نسل پرستي پر مبني حالیہ اقدامات کے خلاف موثر اور سخت ردعمل دیں.

ان خيالات كا اظہار چيف جسٹس آيت اللہ 'صادق آملي لاريجاني' نے گذشتہ روز سپريم جوڈيشل كونسل كے اجلاس سے خطاب كرتے ہوئے كيا.



اس موقع پر انہوں نے عشرہ فجر كي آمد اور اسلامي انقلاب كي سالگرہ كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ آج خطے اور دنيا ميں اسلامي جمہوريہ ايران كي مضبوط پوزيشن اور اس كے اثر و رسوخ فوجي طاقت اور مہم جوئي سے نہيں بلكہ جذبہ ايماني اور اسلامي انقلاب كے مقاصد پر عمل كرنے سے ممكن ہوئي ہے.



انہوں نے مزيد بتايا كہ ايران كي طاقت اور اثر و رسوخ سے سامراجي قوتيں خوف و ہراس كي شكار ہيں.



ايراني چيف جسٹس نے امريكہ كي جانب سے 7 مسلم ممالك پر سفري پابندياں عائد كرنے كو انساني حقوق كي خلاف ورزي قرار ديتے ہوئے بتايا كہ ٹرمپ كے ايسے اقدامات اس كے اصل چہرہ بے نقاب ہوا ہے اور اس كا مقصد دنيا ميں اسلام فوبيا كوا ہوا دينا ہے.



ايران اور ديگر اسلامي ممالك كے خلاف امريكي سازشوں كو شديد تنقيد كا نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے كہا كہ ايسي سازشوں سے ايراني قوم اور حكومت كے عزم كو متاثر نہيں كيا جاسكتا اور ہم مظلوموں كي حمايت جاري ركھيں گے.



ايراني چيف جسٹس نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران، دہشتگردوں كے خلاف جنگ ميں فرنٹ لائن پر ہے.



٩٣٩٣*٢٧٤**