موجودہ صورتحال میں ایران،فرانس مذاکرات مفید ثابت ہوسکتے ہیں: ایرانی ترجمان

تہران - ارنا - ایرانی دفترخارجہ کے ترجمان نے فرانسیسی وزیرخارجہ کا دورہ ایران نہایت اہمیت اہم کا حامل اور موجودہ صورتحال میں پر دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات مفید ثابت ہوسکتے ہیں.

يہ بات ' بہرام قاسمي ' نے گزشتہ پير كے روز دفترخارجہ كے سابق سنئير افسروں كي اعزاز ميں منعقدہ تقريب كے موقع پر صحافيوں كے ساتھ گفتگو كرتے ہوئے كہي.



ايران اور فرانس كے درميان ديرينہ تعلقات كا حوالہ ديتے ہوئے انہوں كہا كہ دونوں ممالك كے درميان سياسي، اقتصادي اور ثقافتي شعبوں ميں اچھے تعلقات قائم ہيں اور جوہري معاہدے كے بعد اس تعلقات كو مزيد بڑھانے كے لئے اچھي فضا قائم ہوئي ہے.



قاسمي نے كہا كہ 'يان مارك آئرولٹ' فرانس كے وزير خارجہ كے علاوہ ايران،فرانس مشتركہ اقتصادي كميشن كے سربراہ بھي ہيں جس كي وجہ سے ان كے اس دورے كي اہميت ميں مزيد اضافہ ہوگيا ہے.



انہوں نے مزيد كہا كہ آج بروز منگل دونوں ممالك كے درميان پہلے مشتركہ اقتصادي كميشن كے اجلاس كا انعقاد كيا جائے گا. اسلامي انقلاب كے بعد فرانس اور ايران كے درميان يہ پہلا اجلاس ہے اوت توقع كي جارہي ہے كہ اس پيشرفت سے دوطرفہ اقتصادي سرگرميوں كو مزيد فروغ ملے گا.



ايراني ترجمان نے كہا كہ فرانس يمن، شام، عراق اور لبنان كے مسائل كے حل ميں اہم كردار ادا كرسكتا ہے.



انہوں نے كہا كہ جوہري معاہدے ميں گروپ 5+1 كے ممالك ميں سے ايك فرانس ہے اور يہ ملك جوہري معاہدے كے مطابق عمل كرنے كي حمايت كرتا ہے.



تفصيلات كے مطابق فرانسيسي وزير خارجہ گزشتہ پير كي رات ايران كے دارالحكومت تہران پہنچ گئے ہيں.



يان مارك آئرولٹ اپنے ايراني ہم منصب محمد جواد ظريف سميت صدر حسن روحاني، اسپيكر علي لاريجاني اور اعلي قومي سلامتي كونسل كے سيكرٹري ايڈميرل علي شمخاني كے ساتھ اہم ملاقاتيں كريں گے اور اس نشست ميں دوطرفہ روابط، مختلف علاقائي اور بين الاقوامي تازہ ترين صورتحال كے حوالے سے تبادلہ خيال كيا جائے گا.



فرانسيسي وزيرخارجہ كے وفد ميں دفترخارجہ، محكمہ خزانہ و تجارت كے اعلي حكام، 60 فرانسيسي كمپنيوں كے نمائندے اور سنئير صحافي شامل ہيں.



٩٣٩٣*٢٧٤**