'چابہار' اور 'گوادر' کے درمیان سڑک،ریلوے لائن بچھانے کے خواہاں ہیں: پاکستانی وزیر پورٹس

اسلام آباد - ارنا - پاکستان کے وزیر پورٹس اور شپنگ نے کہا ہے کہ ان کا ملک گوادر اور ایران کی چابہار بندرگاہوں کو سڑک اور ریلوے لائن کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک کرنے کا خواہاں ہے.

ان خيالات كا اظہار 'مير حاصل خان بزنجو' نے پير كے روز پاكستان ميں تعينات اسلامي جمہوريہ ايران كے سفير 'مہدي ہنردوست' كے ساتھ ايك ملاقات ميں گفتگو كرتے ہوئے كيا.



اس موقع پر انہوں نے كہا كہ پم چابہار اور گوادر بندرگاہوں كو ايك دوسرے سے ملانے كے لئے سڑك اور ريلوے لائنوں كي تعمير كے خواہاں ہيں اور اس مقصد كے لئے دونوں ممالك كے باہمي تعاون كو مزيد فروغ دينا ہوگا.



انہوں نے مزيد بتايا كہ ايران اور پاكستان كے سرحدي صوبوں كے دارالحكومتوں زاہدان اور كوئٹہ كے درميان تو پہلے سے ہي ريلوے لائن موجود ہے مگر چابہار اور گوادر بندرگاہوں كي اہم پوزيشن كي خاطر ان دونوں بندرگاہوں كے درميان سڑك اور ريلوے لائن كي تعمير كي ضرورت ہے.



پاكستاني وزير پورٹس اور شپنگ نے مزيد كہا كہ ان كا ملك ايران جانے والے مسافر بالخصوص زائرين كي سہولت كے لئے كراچي اور ايران كي چابہار بندرگارہ كے درميان فيري سروس شروع كرنے ميں دلچسپي ركھتا ہے اور اس منصوبے پر كام جلد شروع كرنا چاہئے.



انہوں نے كہا كہ ايران كے ساتھ فيري سروس كا آغاز پاكستان كے لئے نہايت اہميت كا حامل ہے جبكہ وزيراعظم 'محمدنواز شريف' نے خود اس منصوبے كے آغاز پر زور ديا ہے.



ميرحاصل خان بزنجو نے كہا كہ ايران اور پاكستان كے درميان فيري سروس كا آغاز كرنے كے بعد ميرجاوہ اور تفتان سرحدي گيٹ كي طرح چابہار اور گوادر كي بندرگاہوں ميں بھي دونوں ممالك كے مسافروں كے لئے كسٹمز اور سفري سہوليات فراہم كرنے كے لئے سرحدي گيٹ تعمير كرنے كي ضرورت ہے.



اس موقع پر ايراني سفير نے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران جس طرح چابہار كو اہميت سے ديكھتا ہے ويسے ہي گوادر بندرگاہ كو بھي اہميت ديتا ہے.



مہدي ہنردوست نے اس بات پر زور ديا كہ ايران اور پاكستان كو باہمي تعلقات بڑھانے كے حوالےسے وقت كو ہاتھ سے نہيں دينا چاہئے بالخصوص چابہار اور گوادر كي صلاحيتوں كا استعمال كرتے ہوئے مشتركہ تجارتي اور اقتصادي سرگرميوں كے لئے تعميري فضا قائم ہوسكتي ہے.



انہوں نے پاكستاني تاجر اور سرمايہ كار كمپنيوں سے مطالبہ كيا كہ چابہار بندرگاہ كے اقتصادي فري زون كے مواقع سے بھرپور استفادہ كريں.



ايراني سفير نے مزيد كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران پاكستاني كي گوادر بندرگاہ كي توانائي ضروريات كو پورا كرنے كے لئے بھي تيار ہے.



انہوں نے كہا كہ گوادر، پاكستان،چين اقتصادي راہداري منصوبے ميں مركزي كردار ركھتي ہے، ايران بھي اس منصوبے ميں شريك ہونے كے لئے اپني دلچسپي كا اظہار كيا ہے اور ہم سمجھتے ہيں راہداري منصوبے سے نہ صرف پاكستان بلكہ پورے خطے كو فائدہ ملے گا.



۲۷۴**