جوہری معاہدے کے مستقبل کا انحصار ایران کے مثبت رویے پر انحصار ہے: سابق فرانسیسی سفیر

پیرس - ارنا - ایران میں تعینات سابق فرانسیسی سفیر نے تہران اور مغرب کے درمیان جوہری معاہدے کی آئندہ صورتحال کے حوالے سے کہا ہے کہ جوہری معاہدے کے مستقبل کا انحصار اس بات پر ہے کہ ایران، امریکی منفی رویے کا جواب اسی طرز میں نہ دے.

ان خيالات كا اظہار مصري نژاد سابق فرانسيسي نامور سفارتكار 'فرانسوا نكولو' نے ارنا كے نمائندے كے ساتھ خصوصي گفتگو كرتے ہوئے كيا. وہ فرانسيسي صدر شيراك كے دور ميں 2001 سے 2005 تك ايران ميں بطور سفير خدمات سرانجام دے چكے ہيں.



فرانسوا نكولو، ايران جوہري معاہدے كے حاميوں ميں سے ہيں اور ان كا كہنا ہے كہ تہران انتظاميہ كو اس معاہدے كے حوالے سے امريكي رويے كي طرح اسے جواب نہيں دينا چاہئے اور جوہري معاہدے كے اگلے مراحل كو امريكيوں كي غيرموجودگي ميں چلنے ديا جائے.



انہوں نے بتايا كہ ايسے اقدامات سے 2000 كي صورتحال پھر سامنے گي جس ميں امريكہ اور ايران كا تو كوئي رابطہ نہيں تھا مگر يورپي ممالك، روس اور چين ايران كے ساتھ اپنے تجارتي تعلقات قائم ركھے ہوئے تھے.



ايران ميں تعينات سابق فرانسيسي سفير نے مزيد كہا كہ جوہري معاہدے ميں سب كا فائدہ ہے. ايران نے اپنے وعدوں پر عمل كيا ہے اور اس معاہدے كي نگراني عالمي جوہري توانائي ادارہ كر رہا ہے. در حقيقت جوہري معاہدے كے نفاذ كے دن سے دنيا ميں اچھي فضا قائم ہوئي ہے اور اس عمل سے تمام فريقين ميں اعتماد پيدا ہوا ہے.



امريكي صدارتي انتخابات كي مہم ميں ڈانلڈ ٹرمپ كے ايران اور جوہري معاہدے كے خلاف بيانات كے ممكنہ اثرات پر تبصرہ كرتے ہوئے انہوں نے كہا كہ ٹرمپ نے تو پہلے اس معاہدے كو ختم كرنے كا بولا تھا، پھر نئے سرے سے مذاكرات اور اب جوہري معاہدے پر كڑي نظر اور نفاذ كي بات كر رہا ہے مگر ميں سمجھتا ہوں ڈانلڈ ٹرمپ كو اس بات كا يقين ہوجائے گا كہ ايران جوہري معاہدہ توڑنے سے كچھ حاصل نہيں ہوگا.



فرانسوا نكولو نے ايران جوہري معاہدے كے حوالے سے امريكي كانگريس كي اكثيريتي نمائندوں كے رويے پر تشويش كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ اكثر امريكي كانگريس كے نمائندے اس معاہدے كے خلاف ہيں اور وہ كسي طريقے سے نيا قانون پاس كرتے ہوئے ايران كے خلاف نئي پابندياں لگاسكتے ہيں.



اس موقع پر انہوں نے جوہري معاہدے كے نفاذ كے حوالے سے يورپي ممالك كي كاركردگي كو سراہتے ہوئے كہا كہ اس وقت جوہري معاہدے كي شديد مخالفت كرنے والا ناجائز صہوني رياست كے وزرياعظم نيتن ياہو ہے. نيتن ياہو ايك ايسي فضا قائم كرنے كي كوشش كرے گا جس كا مقصد ايران، جوہري معاہدے كي خلاف ورزي كرنے پر مجبور ہو مگر ايراني حكومت كو چاہئے نہايت سنجيدگي كے ساتھ ايسے اقدامات كو پس پشت ڈال كر اپني تعميري حكومت عملي جاري ركھے.



اس موقع پر انہوں نے ايران اور سعودي عرب كے درميان تعلقات كي بحالي پر زور ديتے ہوئے كہا كہ شام،يمن اور ديگر مختلف معاملات پر اختلافات ہونے كے باوجود علاقے ميں تہران،رياض تعاون كے بغير امن و استحكام كے قيام ممكن نہيں ہے.



انہوں نے كہا كہ دونوں ممالك كے حكام كو چاہئے باہمي تعلقات كي بحالي كے لئے ضروري اقدامات اٹھائيں. سعودي عرب ايسے اقدامات نہيں اٹھائے گا جس سے خطے بالخصوص خليج ممالك علاقے ميں عدم استحكام كي صورتحال پيدا ہو اس لئے وہ ايران اور جوہري معاہدے پر محتاط رويہ اپنايا ہوا ہے.



اس موقع پر انہوں نے ايران،فرانس تعلقات كي ترقي پر اطمينان كا اظہار كرتے ہوئے كہا كہ ايران اور فرانس كے درميان تعلقات كے نئے باب كا آغاز ہوا ہے اور مشتركہ معاہدوں كے جلد نفاذ سے اين تعلقات كو مزيد مضبوط كرنے كے لئے مدد ملے گي.



٢٧٤**