ہنگری کے وزیر خارجہ کا ایران کے ساتھ تعلقات بڑھانے پر زور

بلغراد - ارنا - ہنگری کے وزیر خارجہ نے مشرق وسطی میں اسلامی جمہوریہ ایران کی قدیمی ثقافت اور اہم کردار کا حوالہ دیتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان کثیرالجہتی تعلقات کو مزید بڑھانے پر زور دیا.

يہ بات 'پيٹر سيارٹو' نے گزشتہ روز ہنگري كے دارالحكومت بڈاپسٹ ميں تعينات اسلامي جمہوريہ ايران كے سفير 'غلام علي رجبي يزدي' كے ساتھ ايك ملاقات كے دوران گفتگو كرتے ہوئے كہي.



اس موقع پر انہوں نے قريب مستقبل بڈاپسٹ ميں دونوں ممالك كے درميان منعقد ہونے والے مشتركہ اقتصادي كميشن كا ذكر كرتے ہوئے كہا كہ اس اجلاس كے لئے ضروري اقدامات اٹھائے گئے ہيں اور ايراني وزير خزانہ 'علي طيب نيا' اور ان كے اعلي سطحي وفد اس اجلاس ميں شركت كے لئے جلد ہنگري كا دورہ كريں گے.



ہنگري كے وزيرخارجہ نے شام ميں جنگ بندي كے نفاذ كي ضرورت پر زور ديتے ہوئے كہا كہ اسلامي جمہوريہ ايران، روس اور تركي شام ميں جنگ بندي كے نفاذ ميں اہم كردار ادا كررہے ہيں اور اس كے علاوہ شامي امن مذاكرات سے شام ميں طويل المدت فائربندي كےلئے فضا قائم ہوگي.



انہوں نے اس بات پر زور ديا كہ شامي بحران كا سياسي حل صرف موجودہ حقائق كو تسليم كرنے اور خود مختاري كے اصولوں كو اپنانے كي صورت ميں ممكن ہے.



بنگري وزير خارجہ نے كہا كہ ہنگري اسلامي جمہوريہ ايران كي كمپنيوں كے ساتھ اقتصادي تعلقات بڑھانے كا خواہاں ہے.



انہوں نے قريب مستقبل ميں ايراني وزير خارجہ ' محمدجواد ظريف ' كے ہنگري كے دورے كا حوالہ ديتے ہوئے كہا كہ دونوں ممالك كے اعلي حكام كے درميان سياسي اور اقتصادي مذاكرات ضروري ہے.



ايراني سفير نے كہا كہ ايراني سفارت خانے كے اہم ترجيح ميں سے ايك گذشتہ ميں دونوں ممالك كے درميان دستخط ہونے والے معاہدوں كا نفاذ ہے.



٩٣٩٣*٢٧٤**